کلاؤڈ جیگوار کی واپسی وسطی امریکہ کے جنگلاتی ماحولیاتی نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جو تحفظ کی نئی امید جگا رہی ہے
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
ہنڈوراس میں 10 سال بعد پہلی بار نایاب بڑی بلی “ کلاؤڈ جیگوار” کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نتیجتاً ماہرین نے اس پیش رفت کو جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے ایک مثبت علامت قرار دیا ہے۔

سیرا ڈیل مرینڈون میں کیمرہ ٹریپس سے اہم دریافت
کیمرہ ٹریپس نے سیرا ڈیل مرینڈون کے پہاڑی سلسلے میں ایک نر جیگوار کی تصاویر حاصل کیں۔ مزید برآں یہ پہلی بار ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں اس علاقے میں جیگوار کی موجودگی سامنے آئی ہے۔
اس کے علاوہ تصاویر 6 فروری کو تقریباً 2 ہزار 200 میٹر کی بلندی پر ریکارڈ ہوئیں۔
جنگلی حیات کیلئے اُمید کی کرن
ماہرین کے مطابق یہ ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے، جبکہ وسطی امریکا میں جیگوار کی آبادی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
مزید یہ کہ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے مطابق جیگوار اپنی تاریخی رہائش گاہ کا تقریباً 49 فیصد حصہ کھو چکے ہیں۔
بڑے خطرات بدستور برقرار
اگرچہ ہنڈوراس میں جیگوار کو قانونی تحفظ حاصل ہے، تاہم خطرات اب بھی موجود ہیں۔ بالخصوص جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی شکار بڑے مسائل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
اسی طرح پینتھیرا کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کیلئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
جنگلات کے نقصان کی تشویشناک صورتحال
اعداد و شمار کے مطابق، سال 2001 سے 2024 کے دوران ہنڈوراس نے تقریباً 15 لاکھ ہیکٹر جنگلاتی رقبہ کھو دیا۔ نتیجتاً یہ ملک کے مجموعی رقبے کا تقریباً 19 فیصد بنتا ہے۔
مزید یہ کہ اس کی بڑی وجہ زرعی توسیع، باغات اور چرائی کیلئے زمین کا استعمال ہے۔
حکومتی اقدامات اور ہدف
حکومت نے 2029 تک جنگلات کی کٹائی روکنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 13 لاکھ ہیکٹر جنگلات کی بحالی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اسی تناظر میں ’’ زیرو ڈی فارسٹیشن پلان 2029” کے تحت غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف فوجی گشت بھی تعینات کیا گیا ہے۔
خوراک کی کمی بھی بڑا خطرہ
ماہرین کے مطابق صرف جنگلات ہی نہیں بلکہ خوراک کی کمی بھی جیگوار کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ چونکہ ان کے شکار ہونے والے جانوروں کی تعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔
مرینڈون کے جنگلات میں بحالی کے آثار
دوسری جانب مرینڈون کے پہاڑی جنگلات میں بہتری کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ یہ علاقہ سن 1987 سے محفوظ قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہاں سے پانی کے اہم ذرائع بھی فراہم ہوتے ہیں۔
جنگلی بلیوں کی واپسی
اسی طرح ماہرین کے مطابق اب اس علاقے میں جیگوار کے ساتھ ساتھ پوما، اوسیلوٹ اور دیگر جنگلی بلیاں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ نتیجتاً یہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کا واضح اشارہ ہے۔
کلاؤڈ جیگوار کا غیر معمولی مشاہدہ
کلاؤڈ جیگوار عام طور پر نچلے علاقوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم پہاڑی علاقوں میں ان کی موجودگی کم دیکھی جاتی ہے۔ لہٰذا ماہرین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ یہ نیا رویہ ہے یا پہلے مشاہدہ نہیں ہو سکا۔
علاقائی جنگلی راہداریوں کی اہمیت
مزید برآں ہنڈوراس اور گوئٹے مالا کے درمیان جنگلی راہداریوں کے ذریعے جیگوار کی نقل و حرکت جاری ہے۔ یہ رابطہ ان کی جینیاتی بقا کیلئے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مثبت عالمی رجحان
اسی طرح حال ہی میں میکسیکو میں بھی جیگوار کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ نتیجتاً یہ ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
غیر معمولی گرم بہار کے اثرات، خشک سالی میں تیزی سے اضافہ
بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کب ہوگی؟
ماہرین کی رائے
آخر میں ماہرین کے مطابق مشترکہ علاقائی تحفظی اقدامات ناگزیر ہیں۔ کیونکہ جنگلاتی راہداریوں کا تحفظ ہی جیگوار کی بقا کی سب سے اہم حکمت عملی ہے۔