April 7, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
ایران: ٹرمپ کے بیانات، جنگی اہداف اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی

ایران: ٹرمپ کے بیانات، جنگی اہداف اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی

ایران پر امریکی جارحیت کے تناظر میں ٹرمپ کے بیانات، جنگی حکمت عملی، انفراسٹرکچر تباہی کے اہداف اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں

ویب نیوز رپورٹ

جمعرات، 3 اپریل 2026 کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کے ایک ماہ مکمل ہونے پر قوم سے پہلا خطاب کیا ۔

انہوں نے جنگ کے نتائج سے متعلق بے بنیاد دعوے کیے ۔ ساتھ ہی یہ مؤقف دہرایا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکی حملے جاری رہیں گے ۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت میں امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔

جنگی اہداف اور نئی دھمکیاں

ٹرمپ نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس عسکری کارروائی کے خاتمے کے لیے مختلف اہداف اور ٹائم لائنز مقرر کیں ۔ انہوں نے اپنے حالیہ خطاب میں اعلان کیا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف مزید حملے کیے جائیں گے ۔

ایک متنازع جملے میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایران پر اتنے شدید حملے کریں گے کہ وہ پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے گا‘‘۔

یہ بیان جنگی شدت اور ممکنہ تباہی کا واضح اظہار سمجھا جا رہا ہے ۔

جنگی حکمت عملی کے تین مراحل

امریکہ اور صیہونی رجیم کی مشترکہ حکمت عملی کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے

بنیادی ہدف : ایران پر مکمل غلبہ

درمیانی ہدف : ایران کو تقسیم کرنا

نچلا ہدف : انفراسٹرکچر کی تباہی

حالیہ حالات کے مطابق، ایران کی عسکری مزاحمت اور قومی بیداری کے باعث پہلے دو اہداف حاصل نہیں ہو سکے ۔ چنانچہ کارروائیاں اب زیادہ تر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے تک محدود دکھائی دیتی ہیں ۔

پتھر کے زمانے” کی اصطلاح کی وضاحت

عسکری اصطلاح میں ’’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنا‘‘ سے مراد کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے، جس میں بجلی کا نظام، پانی کی فراہمی، مواصلات سڑکیں، ہسپتال شامل ہیں

یہ حکمت عملی بڑے پیمانے پر شہری زندگی کو مفلوج کرنے کے مترادف سمجھی جاتی ہے ۔

بین الاقوامی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن، جنگ کے دوران شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔

عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی

بین الاقوامی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن، جنگ کے دوران شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیتے ہیں ۔

تناسب کا اصول لازمی ہے

شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز ضروری ہے

آرٹیکل 54 کے تحت ایسی املاک کو نقصان پہنچانا ممنوع ہے جو انسانی بقا سے وابستہ ہوں

اس تناظر میں ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا واضح طور پر غیرقانونی اور غیر مناسب عمل قرار دیا جا رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں سیاحت کا بڑا ایونٹ منعقد

آرکٹک سمندری برف خطرناک حد تک کم : 2050 تک برف ختم ہونے کا خدشہ

ایران کا ردعمل

ایران کے وزیر خارجہ نے کرج شہر میں ایک پل پر حملے کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایران کو جھکانے میں ناکام رہے گا ۔ یہ اقدامات دشمن کی اخلاقی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پل اور عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، مگر امریکہ کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان پورا نہیں ہو سکتا ۔

نتیجہ کیا نکلے گا؟

حالیہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ تاہم ایران کی تاریخی مزاحمت، قومی یکجہتی اور دفاعی صلاحیتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مکمل تباہی یا شکست کا تصور حقیقت سے بعید ہے۔

عالمی سطح پر خاموشی اور غیر مؤثر ردعمل مستقبل کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×