امریکی بمباری کی تاریخ اورعالمی دوہرا معیار کی حقیقت، 30 ممالک کی کہانی، کیا دنیا واقعی انصاف پسند ہے؟ حیران کن انکشافات!

ویب نیوزرپورٹ: ماریہ اسماعیل
حالیہ دنوں میں ماسکو میں چینی سفارت خانے کی جانب سے ایک ایسی فہرست جاری کی گئی ہے جس نے عالمی سیاست پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اس فہرست میں اُن ممالک کا ذکر کیا گیا ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد مختلف ادوار میں امریکی بمباری کا نشانہ بنے۔ اس میں جاپان، ویتنام، عراق، افغانستان، پاکستان سمیت 30 سے زائد ممالک شامل ہیں ۔
چین کے مطابق، یہ فہرست دنیا کو یاد دلانے کے لیے جاری کی گئی کہ عالمی طاقتوں کے کردار کو یکطرفہ انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا ۔ یہ فہرست صرف ناموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخ کی عکاسی کرتی ہے جس میں طاقت، مفادات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ پہلو شامل ہیں ۔
جاپان سن 1945 میں
جاپان پر 1945 میں ایٹمی حملوں میں اندازاََ 2 لاکھ سے زائدافراد ( ہیروشیمااورناگاساکی پراٹیم بم گرایاتھا ) آج یہ ایک ترقی یافتہ اورپرامن ملک ہے مگرایٹمی حملوں کی یاد آج بھی قومی تاریخ کا اہم حصہ ہے ۔
ویتنام (1961 تا 1973)
سرد جنگ کے تناظرمیں 20 لاکھ شہری اورفوجی مارے گئے ۔ آج ویتنام ایک اُبھرتی ہوئی میعشت ہے مگرجنگ کے اثرات اب بھی موجود ہیں ۔
عراق ( 2011،1991 اور 2003 )
کویت پرحملہ سن 1991میں ہوا، بعد میں ہتھیاروں کی تلاش اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں مختلف اندازوں کے مطابق 2 سے 5 لاکھ افراد مارے گئے ۔ صدرصدام حسین کوپھانسی دی گئی ۔ آج اسی عراق کوسیاسی عدم استحکام، سیکیورٹی چیلنجزاورمعاشی مشکلات کاسامناہے ۔
افغانستان ( 2001 تا 2021 ) ستمبر 11 کے حملوں کے بعد القاعدہ کے خلاف کاروائی کی گئی۔ ایک لاکھ 70 ہزارشہری اورفوجی مارے گئے، آج طالبان حکومت انسانی بحران اورعالمی تنہائی کا شکار ہے ۔
پاکستان ( 2007 تا 2015 )
دہشت گردی کے خلاف ڈرون حملے قبائلی علاقوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکتیں شامل ہیں ۔ آج سیکیورٹی سٹسم بہتر ہے مگرحملوں کے حوالے سے بحث اب بھی جاری ہے ۔
لیبیا( 2011 ) عرب بہارکے دوران قذاقی کی حکومت کے خلاف نیٹومذاخلت
قذاقی کوقتل کردیاگیا ۔ ہزاروں افراد مارے گئے ۔ آج سیاسی تقسیم، مختلف گروہوں کے درمیان کشمکش جاری ہے ۔
شام ( 2014 سے 2024 )
داغش کے خلاف کاروائی۔بشاراسد کی حکومت کاخاتمہ۔لاکھوں کی تعدادمیں افرادمارے گئے۔آج خانہ جنگی کے اثرات۔تباہ حال معیشت۔اورانسانی بحران شامل ہیں ۔
یوگوسلاویہ ( 1999 )
کوسوومیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاالزام ۔ہزاروں افرادمارے گئے ۔ آج کئی آزادریاستوں کی تقسیم۔پورپ کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں
صومالیہ (1993سے ابھی تک جاری ہے) انسانی امداداورامن مشن۔بعدمیں دہشت گردی کے خلاف کاروائی۔آج حالات غیرمستحکم سیاسی صورتحال مگرکچھ بہتری کے آثار۔
یمن ( 2002 سے اب تک جاری ہے )
القاعدہ دیگرشدت پسندگروہوں کے خلاف کاروائی ہزاروں کی تعداد میں افراد متاثرہوئے ۔ آج شدید انسانی بحران، قحط اورخانہ جنگی بھی انہی کاروائیوں کا نتیجہ ہے ۔
ان تمام مثالوں سے ظاہرہوتاہے کہ ہرمداخلت کا ایک پس منظرموجودتھا ۔ امریکہ نے مختلف اوقات میں عسکری طاقت کا استعمال کیا ۔ تاہم یاد رہے کہ ہرواقعے کے اپنے مخصوص حالات، جواز اور بین الاقوامی ردِعمل رہے ہیں، لیکن ان تمام کو یکجا دیکھنے سے ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے ۔
چین نے اس فہرست کو جاری کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عالمی سطح پر طاقت کے استعمال میں کون سا ملک سب سے زیادہ سرگرم رہا ہے ۔
چین نے اس بیان کے ذریعے مغربی ممالک خصوصاً امریکہ پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا ہے، جہاں ایک طرف بعض ممالک کے اقدامات کی شدید مذمت کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف بڑی طاقتوں کے اقدامات کو مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔
یہ معاملہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے ۔ مثال کے طور پر، کیا عالمی برادری واقعی غیرجانبدار ہے ؟ کیا بین الاقوامی قوانین سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں ؟ اور کیا طاقتور ممالک کو ان کے اقدامات پر وہی احتساب درپیش ہوتا ہے جو کمزور ممالک کو ہوتا ہے ؟ ان سوالات کے جوابات آسان نہیں، لیکن یہ بحث ضرور ضروری ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی نظام اکثر طاقت کے توازن پر قائم ہوتا ہے، جہاں سیاسی مفادات، سفارتی تعلقات اور اقتصادی اثر و رسوخ اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے بعض اوقات عالمی ردِعمل یکساں نظر نہیں آتا ۔
تاہم یہ صورتحال نہ صرف عالمی انصاف کے تصور کو متاثر کرتی ہے بلکہ چھوٹے ممالک کے اعتماد کو بھی متزلزل کرتی ہے ۔
واضح رہے کہ چین کی جانب سے یہ فہرست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی میڈیا مختلف زاویوں سے واقعات کو پیش کر رہا ہے ۔ اس تناظر میں یہ اقدام ایک سیاسی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی بیانیے کو چیلنج کرنا ہے ۔
آخرمیں، اس بحث کا مقصد کسی ایک ملک کو ہدف بنانا نہیں بلکہ عالمی سطح پر انصاف، شفافیت اور یکساں احتساب کے اصولوں پر زور دینا ہے ۔ اگردنیا واقعی ایک منصفانہ نظام کی خواہاں ہے تو ضروری ہے کہ تمام ممالک کے اقدامات کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے اور بین الاقوامی قوانین کا اطلاق بلا امتیاز ہو ۔
یہ فہرست ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کو سمجھنا اور اس سے سیکھنا ہی ایک بہتر اور متوازن عالمی مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے ۔


