RY MEDIA TALKS

فالسہ صحت کے لیے کیوں مفید؟

فالسہ وٹامنز، فائبر، آئرن اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور، نظامِ ہاضمہ، جلد اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

گرمیوں میں دستیاب کھٹا میٹھا فالسہ نہ صرف ذائقے کو بہتر بناتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ یہ پھل مختصر عرصے کے لیے بازار میں آتا ہے، اسی لیے ماہرین اسے موسمی غذاؤں میں خاص اہمیت دیتے ہیں۔

فالسے میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، کیلشیئم، غذائی فائبر، فاسفورس، آئرن، پوٹاشیم، سوڈیم، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو، وٹامن بی تھری اور وٹامن سی جیسے اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔

فالسے میں موجود وٹامن اے بینائی بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

مختلف وٹامنز سے بھرپور

فالسے میں موجود وٹامن اے بینائی بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ عمر کے ساتھ مسلز میں آنے والی کمزوری سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وٹامن بی ون دل اور اعصاب کے افعال کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کی کمی مسلز اور اعصاب کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی طرح وٹامن بی ٹو خون کے خلیات کی نشوونما اور جسمانی میٹابولزم کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

وٹامن بی تھری دل کی شریانوں کو بہتر رکھنے اور کولیسٹرول کے توازن میں مدد فراہم کرتا ہے۔

فالسے میں موجود وٹامن سی قوتِ مدافعت مضبوط بنانے کے لیے اہم مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن سی سے بھرپور غذائیں موسمی بیماریوں سے تحفظ یا ان میں کمی میں مدد دے سکتی ہیں۔

نظامِ تنفس کے لیے فائدہ مند

فالسے کا شربت پینے سے نظامِ تنفس کے مسائل میں بھی ریلیف مل سکتا ہے۔ دمہ، نزلہ زکام اور سانس کی دیگر شکایات میں اس کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے۔

قوتِ مدافعت مضبوط بنائے

فالسے میں پوٹاشیم اور پروٹین موجود ہوتے ہیں جو مسلز کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس پھل میں موجود وٹامن سی اور دیگر غذائی اجزا جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ مضبوط قوتِ مدافعت جسم کو بیماریوں سے لڑنے اور جلد صحت یاب ہونے میں مدد دیتی ہے۔

مسلز اور توانائی کے لیے مفید

فالسے میں پوٹاشیم اور پروٹین موجود ہوتے ہیں جو مسلز کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ پروٹین جسمانی توانائی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نظامِ ہاضمہ بہتر کرے

فالسے میں موجود غذائی فائبر نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہ متلی، پیٹ درد اور ہاضمے کے دیگر مسائل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین روزانہ فالسے کا جوس استعمال کرنے کو بھی مفید قرار دیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق جسم میں ورم امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ فالسے کا استعمال دل کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

دل کی صحت کے لیے بہتر

فالسے کو ورم کش خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسم میں ورم امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ فالسے کا استعمال دل کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

یہ جلد کی مرمت میں مدد دیتے ہیں اور بڑھتی عمر کے اثرات کی رفتار کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

جلد کو صحت مند بنائے

فالسے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامنز، خصوصاً وٹامن سی، کولیجن بنانے کے عمل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ جلد کی مرمت میں مدد دیتے ہیں اور بڑھتی عمر کے اثرات کی رفتار کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید

گلیسیمک انڈیکس، جسے مختصراً جی آئی کہا جاتا ہے، غذاؤں کے بلڈ شوگر پر اثرات کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔

فالسہ اس انڈیکس میں نسبتاً نچلی سطح پر شمار کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض اسے مناسب مقدار میں استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ بلڈ شوگر میٹابولزم کو بہتر رکھنے میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

منشیات اسمگلر پنکی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ
دفترِ خارجہ نے نور خان ایئربیس سے متعلق خبروں کی تردید کردی

خون کی کمی میں مددگار

فالسے میں آئرن موجود ہوتا ہے۔ آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی، یعنی انیمیا، میں یہ کسی حد تک مدد فراہم کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فالسے کے بیج کھانے سے بھی کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا، اس لیے اس پھل کو مکمل طور پر کھایا جاسکتا ہے۔

Exit mobile version