دریاؤں کے عالمی کے دن کے موقع پر دریائے سندھ کو لاحق خطرات واضح، پانی کی کمی سے زراعت، معیشت اور ماحول متاثر، مستقل حل کی ضرورت ہے

تحریر: ماریہ اسماعیل
کراچی: ہرسال دنیا بھر میں دریاؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام کو دریاؤں کی اہمیت اور آبی وسائل کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے ۔ دریا انسانی زندگی، زراعت، معیشت اور ماحول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اس دن کو ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کا اہم موقع سمجھا جاتا ہے ۔
دریا صرف پانی کے بہاؤ کا نام نہیں بلکہ تہذیبوں کی بنیاد بھی رہے ہیں ۔ دنیا کی کئی قدیم تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پر پروان چڑھیں۔ پاکستان میں بھی دریاؤں کا نظام ملک کی زراعت، معیشت اور سماجی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔
پاکستان اور دریائے سندھ کی اہمیت
پاکستان میں پانی کا سب سے بڑا ذریعہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا ہیں ۔ دریائے سندھ ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں سے نکلتا ہے اور پورے پاکستان سے گزرتا ہوا سندھ کے میدانوں کو سیراب کرتا ہے، پھر بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے ۔
یہی دریا ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب کا مرکز بھی رہا ہے، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے ۔ آج بھی پاکستان کی زراعت کا بڑا حصہ اسی دریا کے پانی پر منحصر ہے ۔
سندھ کے لیے دریائے سندھ کی اہمیت
صوبہ سندھ کے لیے دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے۔ صوبے کی زراعت، پینے کے پانی کی فراہمی، ماہی گیری اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی دریا سے وابستہ ہے ۔
سکھر بیراج، گڈو بیراج اور کوٹری بیراج اسی دریا کے ذریعے لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتے ہیں ۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں دریا کو ثقافتی اور روحانی اہمیت بھی حاصل ہے اور بہت سی بستیاں اس کے کناروں پر آباد ہیں ۔

سندھ میں پانی کی قلت کا بڑھتا ہوا بحران
گزشتہ چند برسوں میں سندھ کو شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ بعض اوقات صوبے کو 40 سے 50 فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے باعث فصلیں متاثر ہوتی ہیں اور زرعی پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے ۔
پانی کی کمی کے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں
پانی کی تقسیم پر صوبائی اختلافات
دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر اکثر صوبوں کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں، جس کے باعث سندھ تک پانی کی رسائی متاثر ہوتی ہے ۔
ڈیموں اور بیراجوں کا اثر
اوپری علاقوں میں قائم ڈیموں اور بیراجوں کے باعث نیچے کے علاقوں، خصوصاً سندھ، تک پانی کی مقدار کم پہنچتی ہے ۔

موسمیاتی تبدیلی
موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کے انداز میں تبدیلی، بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافہ پانی کے ذخائر کو متاثر کر رہا ہے ۔
سمندری پانی کی دراندازی
کوٹری بیراج کے نیچے پانی کی کمی کے باعث سمندر کا کھارا پانی ساحلی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں زرعی زمینیں متاثر ہو رہی ہیں اور کئی علاقے بتدریج بنجر بنتے جا رہے ہیں ۔
معاشی اور ماحولیاتی اثرات
پانی کی قلت کے باعث سندھ کے کئی اضلاع میں زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے شعبے پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں پانی کی کمی سے مچھلیوں کی افزائش متاثر ہوتی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
انڈس ڈولفن: دریائے سندھ کی نایاب رانی
خیبر پختونخوا شکار سیزن 2025-26 کب شروع ہوگا؟
اسی طرح دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں موجود مینگرووز کے جنگلات بھی سکڑتے جا رہے ہیں۔ یہ جنگلات ساحلی ماحولیاتی نظام اور سمندری حیات کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں ۔

حل اور مستقبل کی ضرورت
دریاؤں کے عالمی دن کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ پانی کے وسائل کو محفوظ بنایا جائے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں
پانی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم
جدید آبپاشی نظام کو فروغ دینا
دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے لیے مناسب مقدار میں پانی چھوڑنا
آبی آلودگی پر مؤثر قابو پانا
دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنا
دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں بلکہ سندھ کی تاریخ، ثقافت اور معیشت کی بنیاد ہے۔ اگر اس دریا کو محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو شدید پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
اسی لیے دریاؤں کے عالمی دن کے موقع پر یہ عہد ضروری ہے کہ آبی وسائل کی حفاظت کی جائے، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے اور دریائے سندھ کو آئندہ نسلوں کے لیے زندہ رکھا جائے ۔



