کِسٹریل،چھوٹا مگر تیز باز نما شکاری پرندہ
قدرتی جبلت، تیز نظر اور مشاہدے کی مدد سے اپنے دشمنوں کو پہچانتا ہے اور محفوظ رہتا ہے
ویب نیوز رپورٹ : عمر ہاشمی

کہا جاتا ہے، پاکستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں پایا جانے والاCommon Kestrel (Falco tinnunculus) کراچی :کِسٹریل، جسے انگریزی میں
یہ پرندہ اپنی ہوورنگ اور شکار کی مہارت کی وجہ سے مشہور ہے۔ لیکن شکار کی مہارت کے ساتھ ساتھ یہ اپنے دشمنوں سے محفوظ رہنا بھی جانتا ہے۔

دشمنوں کے بارے میں معلومات کیسے رکھتا ہے؟
قدرتی جبلت
کِسٹریل میں قدرتی جبلت پائی جاتی ہے، جو اسے پیدائش سے ہی خطرات کا پتہ لگانے کی صلاحیت دیتی ہے۔ یہ جبلت اسے بتاتی ہے کہ کون سے جانور یا حالات اس کے لیے خطرناک ہیں، جیسے
بڑے باز (گولڈن ایگل، گوشاک)
اوولز (خصوصاً ایگل اوول)
کچھ کورز اور شکاری جو اندے یا چوزے شکار کرتے ہیں
تیز نظر اور ہوورنگ کی مہارت
کِسٹریل کی آنکھیں زرد اور انتہائی تیز نظر رکھتی ہیں۔ یہ
چھوٹے حرکات اور دشمنوں کو دور سے دیکھ سکتا ہے۔
ہوورنگ کے دوران ہوا میں رک کر مکمل جائزہ لیتا ہے۔
فوری خطرے کی صورت میں پرواز کے ذریعے بچاؤ اختیار کرتا ہے
(Observational Learning) سماجی سے سیکھنے کا عمل
کِسٹریل اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔
دوسرے پرندوں کے تجربات سے خطرات کو پہچانتا ہے۔
انسانی سرگرمیوں جیسے عمارتوں کی تعمیر یا زہریلے کیڑے مار ادویات سے بچنا سیکھتا ہے

(Warning Calls) الارم سسٹم
کِسٹریل دشمن دیکھنے پراپنی مخصوص آواز “کی-کی-کی” دیتا ہے۔ دوسرے کِسٹریل یا پرندے خبردار ہو جاتے ہیں۔ دشمن کو دھمکانے یا توجہ ہٹانے میں مدد ملتی ہے۔
عادات و خصائص
سائز: طول 30–38 سینٹی میٹر، پرکا پھیلاؤ 65–80 سینٹی میٹر
پر: نر کا سر نیلا سلیر، پشت قرمزی براؤن، سفید پیٹ پر سیاہ دھبے؛ مادہ زیادہ بھوری اور زیادہ خط دار۔
آنکھیں: زرد رنگ کی، تیز نظر۔
آواز: تیز، چہچہانے والی “کِی-کِی-کِی”۔
ماحول
کِسٹریل کھلے میدان، صحرا، شہری علاقے، اور چٹانوں کے کنارے پایا جاتا ہے۔ یہ اکثر ہوا میں معلق ہو کر شکار کی تاک میں رہتا ہے،جسے ہورونگ کہا جاتا ہے۔
غذا
اس کا شکار چھوٹے چوہے، جنگلی موش، کیڑے مکوڑے، پتنگے، اور کبھی کبھار چھوٹے پرندے شامل ہیں۔

پرواز
پر طویل اور تنگ، تیزی سے تین بار پھڑپھڑاہٹ کے بعد گلائیڈ کرتا ہے۔
وورنگ کے دوران ہوا میں ایک ہی جگہ پر رک جاتا ہے۔

(Breeding) پرورش
موسم: عمدہ موسم گرما (اپریل–جون)۔
آشیانہ: چٹانوں کی دراڑیں، درختوں کے کھوکھلے تنوں، یا عمارتوں کی چھتوں پر سادہ گھونسلا، اکثر پرندوں کے پرانے گھونسلوں کو استعمال کرتے ہیں۔
انڈے: مادہ 3–6 (معمولاً 4–5) سفید یا کریمی رنگ کے دھبوں والے اندے دیتی ہے۔
انکیوبیشن: 27–31 دن تک مادہ سیکتی ہے، جبکہ نر خوراک لا کر دیتا ہے۔
چوزے: چوزے 27–34 دن بعد گھونسلے سے نکلتے ہیں، تاہم کچھ ہفتے تک والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔

(Enemies) دشمن
طبیعی دشمن: بڑے باز (مثلاً گوشاک، گولڈن ایگل)، اوولز (خصوصاً ایگل اوول)، اور کچھ کورز (کرگس) جو اندے یا چوزے شکار کر لیتے ہیں۔
موسمی خطرات: سخت طوفان، خوراک کی قلت، اور انسانی سرگرمیاں (آشیانے کی تباہی، زہریلے کیڑے مار ادویات)۔
پالتو جانور: گھریلو بلیاں اور کتے بھی چوزوں یا کمزور بالغ پر حملہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
گدھے: مذہبی روایت سے موسمیاتی بقا تک
شِکرا : پاکستان کا بہادر شکاری پرندہ
دلچسپ حقائق
کِسٹریل اپنی ہوورنگ کی مہارت کی وجہ سے شکار میں بے مثال ہے۔ یہ مہارت اسے نہ صرف زندہ رہنے بلکہ اپنے چوزوں کی حفاظت میں بھی مدد دیتی ہے۔
کِسٹریل دشمنوں کی شناخت اور بچاؤ کے لیے قدرتی جبلت، تیز نظر، مشاہدے کی صلاحیت اور الارم کال استعمال کرتا ہے۔
یہ پرندہ اکثرشہروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں یہ چھتوں اور کھلے میدانوں کو پسند کرتا ہے۔


