کھجور کا درخت سندھ میں ثقافت، معیشت اور محنت کش طبقے کی پہچان ہے، جہاں
کھجور کی فصل کی کٹائی ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔
تحریر: ماریہ اسماعیل

خیرپورکی کھجور — سندھ کی مٹھاس اور محنت کی علامت
ہر سال جون کے مہینے کی تپتی دوپہرمیں خیرپورمیں کھجورکے باغات گہما گہمی سے بھر جاتے ہیں، تو دنیا صرف میٹھے پھل کا مزہ لیتی ہے ۔ مگر اس کے پیچھے چھپی کہانی میں محنت، مشقت، اور بعض اوقات آنسو بھی شامل ہوتے ہیں ۔ یہ صرف کھجور نہیں، بلکہ ہزاروں لوگوں کے لیے زندگی ہے ۔
پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے، جہاں ہر سال پانچ لاکھ ٹن سے زائد کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔ اگرچہ ملک کے چاروں صوبوں میں کھجور کے باغات موجود ہیں، مگر سندھ اس حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ یہاں تقریباً دو لاکھ باون ہزار ٹن کھجوریں پیدا ہوتی ہیں، جو ملکی پیداوار میں سب سے زیادہ ہیں ۔
پاکستان میں کھجور کی پیداوار اور سندھ کا نمایاں کردار
سب سے زیادہ شہرت ضلع خیرپور کو حاصل ہے — جہاں کی کھجوریں اپنے ذائقے، مٹھاس اور اقسام کے تنوع کی بدولت دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔
پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے ۔
کل پیداوار تقریباً 550,000 سے 650,000 ٹن فی سال ہے ۔
سندھ صوبہ پاکستان کی کھجورکی کل پیداوار کا تقریباً 50-55 فیصد فراہم کرتا ہے، جس میں خیرپورضلع سب سے بڑا حصہ دار ہے۔
سندھ میں پیدا ہونے والی کھجور کا تقریباً 90 فیصد خیرپور سے آتا ہے ۔
خیرپور کی کھجوریں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور یورپ تک برآمد کی جاتی ہیں ۔ مگر اس کامیابی کے پیچھے جو اصل طاقت ہے، وہ ہیں محنت کش مزدور، کسان، خواتین اور بچے، جن کی شب و روز کی محنت سے یہ فصل تیار ہوتی ہے۔
خیرپور کی کھجورکی تاریخ اور کاشت کا پس منظر
ضلع خیرپورمیں کھجورکی کاشت کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔ کشکولِ سندھ کی قدیم تہذیب سے لے کر موجودہ دور تک کھجور نے ایک اہم خوراک اور ثقافتی نشان کا کردار ادا کیا ہے ۔
مورخین کے مطابق وادیٔ سندھ کی تہذیب میں بھی کھجور کو بطور خوراک استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں جب اسلام اس خطے میں آیا تو عرب تاجروں اور صوفی بزرگوں نے اس فصل کو مزید فروغ دیا ۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ خیرپورکی آب و ہوا، زمین اور پانی کھجور کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں، اسی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر باغات لگائے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ آب و ہوا، زمین اور پانی کے عوامل خیرپورصلع کو کھجورکی کاشت کے لیے نہایت موافق بناتے ہیں، خاص طور پر درجہ حرارت، خشک گرمیاں اور موزوں مٹی کی ساخت کی وجہ سے ۔

واضح رہے کہ ضلع خیرپور کی آب و ہوا، زمین اور پانی کھجورکی
کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں، اسی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے
پرباغات لگائے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ آب و ہوا، زمین اور پانی کے
عوامل خیرپورکوکھجورکی کاشت کے لیے نہایت موافق بناتے ہیں
خاص طور پر درجہ حرارت، خشک گرمیاں اور موزوں مٹی کی ساخت کی وجہ سے ۔
کھجور کی اقسام — ذائقے، مٹھاس اور عالمی مانگ
خیرپور میں 25 ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر کھجور کے باغات موجود ہیں، جو سالانہ ایک لاکھ ٹن سے زیادہ کھجوریں پیدا کرتے ہیں ۔ خیرپورمیں کھجورکی 300 سے زائد اقسام کاشت کی جاتی ہیں ۔
ان میں سے چند ہی اقسام مارکیٹ میں زیادہ معروف ہیں۔ ان میں اجوا، خلاص، سکری، مہٹی، کربل، کپتی، پیلو اور دیسی کھجوریں شامل ہیں ۔ اجوا کو مذہبی اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے اس کی سب سے زیادہ مانگ سعودی عرب میں ہے، جبکہ خلاص اور سکری اپنی مٹھاس اور ذائقے کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی سے فروخت ہوتی ہیں ۔
مزدوروں کی محنت — کھجور کے باغات کے خاموش ہیرو
مزدوروں کے حالاتِ کار اور اجرت کے مسائل
کھجور کی فصل، عام فصلوں سے مختلف ہوتی ہے ۔ کھجور کے درخت عموماً 40 سے 50 فٹ اونچے ہوتے ہیں ۔ مزدوررسّیوں کے ذریعے ان درختوں پر چڑھتے ہیں اور ہرگچھا ہاتھ سے کاٹ کر نیچے اتارتے ہیں ۔
کاٹنے کے بعد گچھے نیچے اتارے جاتے ہیں، پھر چھنٹائی، صفائی اور سُکھانے کے مراحل شروع ہوتے ہیں ۔ یہ عمل ہر سال جون سے اگست تک جاری رہتا ہے ۔ شدید گرمی، اونچائی اور حادثات کے خطرات کے باوجود کھجورکے باغات کے خاموش ہیرو یہ کام کرتے رہتے ہیں ۔
ایک مزدور(فرضی نام سہیل) نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ، ہم صبح سورج نکلنے سے پہلے کام شروع کرتے ہیں اور شام تک درختوں پر چڑھنے، گچھے کاٹنے اور کھجوریں اتارنے میں لگے رہتے ہیں ۔ سارا دن محنت کے بعد صرف 200 سے 250 روپے ملتے ہیں ۔ علاوہ ازیں حفاظتی اقدامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں ۔
خواتین اور بچوں کی محنت — چھپے ہوئے ہاتھ
کبھی کبھار مزدور درخت سے گر کر زخمی بھی ہو جاتا ہے۔ زمین پر اتاری گئی کھجوروں کی چھنٹائی اور صفائی خواتین اور بچے کرتے ہیں ۔ ایک خاتون ہاری نے بتایا کہ، ہمیں فی کلو کھجور صاف کرنے کے 12 روپے ملتے ہیں ۔
خاتون ہاری کا کہنا ہے کہ اگر دن بھر میں 40 سے 50 کلو کھجورصاف کر لیں تو 400 سے 500 روپے کمالیتے ہیں ۔ لیکن یہ کام بہت تھکانے والا ہے، خاص طور پر جب بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کرنا پڑے ۔
یہ منظر خیرپور کے دیہی علاقوں میں عام ہے، جہاں خواتین اور بچے جھونپڑیوں کے نیچے بیٹھ کر کھجوریں سکھاتے ہیں ۔
کھجور کی تیاری، صفائی اور سکھانے کا عمل
کھجوروں کو اتارنے کے بعد بڑے چھپروں پر 7 سے 10 دن تک سکھایا جاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر سولر ڈرائرز نصب کیے گئے ہیں، مگر زیادہ تر کسان اب بھی روایتی طریقوں پر انحصار کرتے ہیں ۔
زراعت کے ماہرین کے مطابق، خیرپور میں ہر سال 50 ہزار سے زائد افراد اس صنعت سے براہ راست وابستہ ہوتے ہیں جن میں مزدور، خواتین، کسان اور بچے شامل ہیں ۔ فصل کے موسم میں یہی ان کا بنیادی ذریعۂ روزگار ہوتا ہے ۔
خیرپور میں پیدا ہونے والی کھجوروں کی بڑی مقدار پاکستانی مارکیٹوں کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ملائشیا اور یورپ کو برآمد کی جاتی ہے۔
کھجور کی صنعت سے جڑے روزگار اور معیشت پر اثرات
یہ صنعت ملک کے لیے اربوں روپے کا زرمبادلہ لاتی ہے ۔ اگرچہ کھجور کی صنعت ملکی معیشت کے لیے اہم ہے، مگر مزدوروں کے حالاتِ کاراب بھی ناگفتہ بہ ہیں ۔ اجرت کم، سہولیات ناکافی اور صحت و تحفظ کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔
ایک مقامی ہاری کا کہنا ہے کہ ہماری کھجور دنیا تک پہنچتی ہے، مگر اگر مزدوروں کی مزدوری بھی عالمی معیار کے مطابق بڑھائی جائے تو پورا علاقہ خوشحال ہو سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
طارق عزیز: نیلام گھر سے سیاست تک ایک تاریخی سفر
کیا عبیداللہ بیگ واقعی پاکستان کے سب سے بڑے دانشور اور خوش گفتار شخصیت تھے؟
کھجورکی برآمدات — خیرپورسے دنیا تک
میڈیا رپورٹس کے مطابق
پاکستان کی تاریخ حال برآمدات تقریباً US$53 ملین کی ہیں، جن میں 136,000 ٹن کھجوریں خارجی منڈیوں میں جاتی ہیں
خشک کھجور کی برآمدات کا بڑا حصہ انڈیا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرف ہوتا تھا، مگر بعض تجارتی اور تعرفاتی مسائل کی وجہ سے منڈیوں میں رکاوٹیں آتی ہیں ۔
تازہ کھجوربرآمد کرنے والی منڈیوں میں برطانیہ، جرمنی، ترک ممالک اور خلیجی ممالک شامل ہیں، جنہیں معیار اور پیکجنگ کی شرائط کی بنیاد پر موزوں تیاریاں درکار ہیں ۔
جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ ہاریوں کی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی نہیں، اس لیے زیادہ فائدہ دلالوں اور بیوپاریوں کو ہوتا ہے۔اگر جدید آبپاشی نظام، معیاری کھاد، بیماریوں سے بچاؤ کی تربیت اور سولر ڈرائرز متعارف کرائے جائیں تو خیرپور کی کھجوریں عالمی معیار کی بن سکتی ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی سرٹیفکیشن حاصل ہونے سے یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں مزید برآمدات ممکن ہیں۔
نتیجہ — کھجور، محنت اور معیشت کی کہانی
کھجور کا مستقبل خیرپور اور پاکستان کے لیے
خیرپور کی کھجوریں سندھ کی زرعی شناخت بن چکی ہیں۔ یہ صرف ایک پھل نہیں، یہ خاندانوں کا روزگار ہے، خیرپور کی شناخت ہے، اور پاکستان کی معیشت کا قیمتی حصہ ہے۔
خیرپور کی کھجوروں کی صںعت، ہزاروں گھروں کے روزگار کا ذریعہ ہیں ۔ جب یہ مٹھاس بھرا پھل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے تو اس کے پیچھے مزدوروں کی محنت، پسینہ اور قربانیاں شامل ہوتی ہیں ۔
اگر حکومت، زراعت کا شعبہ اور مقامی کسان مل کر جدید ٹیکنالوجی اور منصفانہ پالیسیوں پر عمل کریں تو یہ صنعت نہ صرف خیرپور بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے ۔ حتی کہ یہ صنعت خیرپور کے دیہی علاقوں کو خوشحال بنا سکتی ہے، مزدوروں اورخواتین کی زندگی بہتر کر سکتی ہے ۔



