ڈبلیو ڈبلیو ای میں ریسل مینیا 42 کے بعد بروک لیسنر کی مبینہ ریٹائرمنٹ نے مداحوں کو حیران کر دیا، مستقبل پر سوال اٹھ گئے
ویب نیوز رپورٹ
ریسلنگ کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی۔ معروف ریسلر بروک لیسنر کی مبینہ ریٹائرمنٹ کی خبر سامنے آئی۔ اس خبر نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ ساتھ ہی ریسلنگ حلقوں میں نئی بحث بھی شروع ہو گئی۔
یہ لمحہ ریسل مینیا 42 کے دوسرے دن کے آغاز میں سامنے آیا۔ مقابلے کے بعد لیسنر نے ایسا قدم اٹھایا جسے اکثر ریٹائرمنٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

مقابلہ اور غیر متوقع شکست
امریکی شہر لاس ویگاس کے الیجیئنٹ اسٹیڈیم میں یہ مقابلہ ہوا۔ جہاں بروک لیسنر کا سامنا نائجیرین جائنٹ اوبا فیمی سے تھا۔
ابتدا میں مداح سخت مقابلے کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
اوبا فیمی نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں لیسنر کو شکست دے دی۔
یوں مقابلہ غیر متوقع طور پر بہت جلد ختم ہو گیا۔ شائقین اس نتیجے پر حیران رہ گئے۔

جذباتی منظر نے سب کو چونکا دیا
اصل حیرت مقابلہ ختم ہونے کے فوراً بعد ہوئی۔ بروک لیسنر رنگ کے درمیان بیٹھ گئے۔
اس کے بعد انہوں نے خاموشی سے اپنے دستانے اور جوتے اتار کر رنگ میں رکھ دیے۔
ریسلنگ کی روایت میں اسے اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اسے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اسی دوران لیسنر نے اپنے دیرینہ منیجر پال ہیمین کو گلے لگا لیا۔ دونوں اس موقع پر آبدیدہ دکھائی دیے۔
یہ منظر دیکھ کر اسٹیڈیم میں موجود مداح بھی جذباتی ہو گئے۔

کیا واقعی ریٹائرمنٹ ہے؟
کئی مداح پہلے ہی سمجھ رہے تھے کہ بروک لیسنر جلد ریٹائر ہو سکتے ہیں۔
تاہم زیادہ تر لوگوں کو توقع تھی کہ اعلان سمر سلیم میں ہوگا۔ دوسری جانب بعض مبصرین اسے کہانی یا اسکرپٹ کا حصہ بھی قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق ممکن ہے یہ مکمل ریٹائرمنٹ نہ ہو۔ بلکہ یہ صرف ریٹائرمنٹ کا عندیہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں
ہمپ بیک وہیل کی واپسی نے سمندری دنیا کا راز کھول دیا
لائف جیکٹ 25 کروڑ میں نیلام، آخر اس تاریخی یادگار میں کیا خاص ہے؟
بروک لیسنر کا شاندار کیریئر
بروک لیسنر نے سن 2002 میں ڈبلیو ڈبلیو ای میں ڈیبیو کیا۔ وہ کم عمری میں عالمی چیمپئن بن گئے تھے۔
بعد میں انہوں نے یو ایف سی (الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ) میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔
اسی وجہ سے وہ ریسلنگ اور مکسڈ مارشل آرٹس دونوں میں بڑا نام سمجھے جاتے ہیں۔


