April 21, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
لائف جیکٹ 25 کروڑ میں نیلام، آخر اس تاریخی یادگار میں کیا خاص ہے؟
titanic life jacket auction 25 crore why is this historic item special

لائف جیکٹ 25 کروڑ میں نیلام، آخر اس تاریخی یادگار میں کیا خاص ہے؟

لائف جیکٹ 25 کروڑ میں نیلام، ٹائی ٹینک حادثے سے بچنے والی مسافر کی تاریخی جیکٹ ریکارڈ قیمت پر فروخت، آخر اس نایاب یادگار میں کیا خاص ہے؟

ویب نیوز رپورٹ

1912 میں ڈوبنے والے بحری جہاز ٹائی ٹینک سے وابستہ ایک لائف جیکٹ ریکارڈ قیمت پر نیلام ہو گئی۔ اس تاریخی چیز نے دنیا بھر کے کلیکٹرز کی توجہ حاصل کر لی۔

برطانیہ کے نیلامی گھر ہنری ایلڈرج اینڈ سن نے اسے فروخت کیا۔ لائف جیکٹ کی قیمت 9 لاکھ 4 ہزار 500 امریکی ڈالر رہی۔ یہ رقم 25 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد بنتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین نے اس کی قیمت اس سے کم لگائی تھی۔ ان کے مطابق یہ جیکٹ 3 لاکھ 39 ہزار سے 4 لاکھ 74 ہزار ڈالر میں فروخت ہو سکتی تھی۔ تاہم تاریخی اہمیت نے قیمت کو کہیں زیادہ بڑھا دیا۔

لائف جیکٹ لورا میبل نامی خاتون نے پہنی تھی۔ وہ ٹائی ٹینک کے فرسٹ کلاس کیبن میں مقیم تھیں

لائف جیکٹ کس کی تھی؟

یہ لائف جیکٹ لورا میبل نامی خاتون نے پہنی تھی۔ وہ ٹائی ٹینک کے فرسٹ کلاس کیبن میں مقیم تھیں۔

لورا میبل دراصل فیشن ڈیزائنر لوسی ڈف گورڈن کی سیکرٹری تھیں۔ وہ لوسی ڈف گورڈن اور ان کے شوہر کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

جب حادثہ پیش آیا تو تینوں نے لائف بوٹ نمبر 1 میں جگہ حاصل کی۔ اس طرح وہ محفوظ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

تاہم 15 اپریل 1912 کو رات 2 بج کر 20 منٹ پر حادثہ پیش آیا

ٹائی ٹینک کا المناک حادثہ

یاد رہے کہ اپریل 1912 میں ٹائی ٹینک اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوا تھا۔ یہ برطانیہ سے امریکا جا رہا تھا۔

تاہم 15 اپریل 1912 کو رات 2 بج کر 20 منٹ پر حادثہ پیش آیا۔ جہاز برفانی تودے سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد وہ بحر اوقیانوس میں ڈوب گیا۔

یہ واقعہ نیو فاؤنڈ لینڈ کے ساحل سے تقریباً 400 میل دور پیش آیا۔ اس سانحے میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹائی ٹینک کو بنانے والوں نے اسے کبھی نہ ڈوبنے والا جہاز قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود یہ سمندری تاریخ کا بڑا سانحہ بن گیا۔

بالآخر حادثے کے 73 سال بعد ملبہ دریافت ہوا

ملبہ 73 سال بعد ملا

حادثے کے بعد جہاز کا ملبہ طویل عرصے تک نہیں مل سکا۔ اگرچہ اس سانحے میں 700 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب ماہرین نے ملبہ ملنے کی امید چھوڑ دی۔ تاہم تلاش جاری رہی۔

بالآخر حادثے کے 73 سال بعد ملبہ دریافت ہوا۔ اسے امریکی بحریہ کے عہدیدار اور بحری جغرافیہ کے ماہر رابرٹ بیلارڈ اور ان کی ٹیم نے ڈھونڈا۔

اس لائف جیکٹ کی ایک اہم خصوصیت بھی ہے

لائف جیکٹ کیوں خاص ہے؟

اس لائف جیکٹ کی ایک اہم خصوصیت بھی ہے۔ اس پر لورا میبل اور لائف بوٹ کے دیگر مسافروں کے دستخط موجود ہیں۔

اسی وجہ سے اسے ایک قیمتی تاریخی یادگار سمجھا جاتا ہے۔

یہ جیکٹ پہلے بلفاسٹ کے ایک میوزیم میں رکھی گئی تھی۔ بعد میں اسے نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔

نیلامی گھر کے مطابق ٹائی ٹینک کو ڈوبے 114 سال گزر چکے ہیں۔ تاہم اس سانحے سے جڑی ہر چیز آج بھی ایک الگ کہانی سناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ایک اور واقعہ

لوڈشیڈنگ: پاکستان نئے توانائی بحران کی جانب گامزن؟

خریدار کون ہے؟

نیلامی میں اس لائف جیکٹ کو خریدنے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

البتہ یہ نیلامی ٹائی ٹینک اور وائٹ اسٹار لائن سے متعلق یادگار اشیا کے خصوصی پروگرام کا حصہ تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×