A common engineer has overtaken Mukesh Ambani.

عام انجینئر نے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کر لیا، دولت میں اربوں ڈالر کا حیران کن اضافہ

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کے بانی زینگ یامنگ بھارت کے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بائیٹ ڈانس کے حصص کی قیمت میں اضافے اور کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے باعث زینگ یامنگ کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ان کی دولت میں ایک دن میں 24.1 ارب ڈالرز کا بڑا اضافہ ہوا اور اب وہ 92.8 ارب ڈالرز کے ساتھ ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔

مجموعی طور پر زینگ یامنگ کی دولت میں رواں سال کے دوران اب تک 27.7 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے۔

عالمی درجہ بندی میں مقام

مجموعی طور پر زینگ یامنگ کی دولت میں رواں سال کے دوران اب تک 27.7 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے۔وہ ایشیا کے دوسرے امیر ترین فرد کے ساتھ دنیا کے 21 ویں امیر ترین شخص بھی بن گئے ہیں۔

دوسری جانب مکیش امبانی اس سال کے دوران 20.8 ارب ڈالرز سے محروم ہو چکے ہیں۔وہ 86.9 ارب ڈالرز کے ساتھ ایشیا کے تیسرے جبکہ دنیا کے 25 ویں امیر ترین شخص ہیں۔

بھارت کے گوتم اڈانی 117 ارب ڈالرز کے ساتھ ایشیا کے امیر ترین جبکہ دنیا کے 17 ویں امیر ترین شخص ہیں۔

یہی ٹیکنالوجی کمپنی کی ترقی اور زینگ یامنگ کی دولت میں اضافے کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور کامیابی

بائیٹ ڈانس کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت اسسٹنٹ اور چیٹ بوٹ ڈوباؤ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔اس کے صارفین کی تعداد 30 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔

یہی ٹیکنالوجی کمپنی کی ترقی اور زینگ یامنگ کی دولت میں اضافے کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔

سادہ زندگی اور پس منظر

ایشیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہونے کے باوجود زینگ یامنگ ایک خاموش اور سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ان کی نجی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

سن1983 میں چین کے صوبہ فوجیان میں پیدا ہونے والے زینگ یامنگ کے والدین سرکاری ملازم تھے۔ان کے نام کا مطلب ایک چینی کہاوت کے مطابق پہلی کوشش میں سب کو حیران کرنا ہے۔

تعلیم اور ابتدائی کیریئر

انہوں نے 2005 میں نانکائی یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔ اسی دوران ان کی اپنی اہلیہ سے ملاقات ہوئی اور جلد شادی ہو گئی۔

گریجویشن کے بعد انہوں نے کمپنی کوشون میں ملازمت اختیار کی۔وہ کمپنی کے ابتدائی ملازمین میں شامل تھے اور جلد ہی اہم ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

کاروباری تجربہ اور سوچ

زینگ یامنگ کے مطابق ابتدا میں وہ ایک عام انجینئر تھے مگر دوسرے سال ہی 40 سے 50 افراد کی ٹیم کے انچارج بن گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انہوں نے مصنوعات کی منصوبہ بندی میں بھی حصہ لیا، حالانکہ کچھ افراد نے اس کی مخالفت کی۔

ان کے مطابق ذمہ داری کا احساس اور سیکھنے کا جذبہ انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔

کمپنی کا قیام اور کامیابی

بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھنے سے قبل انہوں نے مائیکروسافٹ میں بھی کام کیا، مگر بعد میں اپنی کمپنی کے لیے ملازمت چھوڑ دی۔

 سال 2012میں قائم ہونے والی بائیٹ ڈانس آج ٹک ٹاک کے باعث دنیا بھر میں معروف ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدا میں وہ خود ٹک ٹاک استعمال نہیں کرتے تھے۔

ٹک ٹاک سے دلچسپ تعلق

زینگ یامنگ کے مطابق وہ شاذ و نادر ہی ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھتے تھے اور کبھی ویڈیو پوسٹ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ اسے نوجوانوں کی ایپ سمجھتے تھے۔

بعد میں کمپنی کے تمام ملازمین کے لیے ویڈیوز بنانا اور مخصوص تعداد میں پسندیدگیاں حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

ان کے مطابق یہ قدم کمپنی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

پاک بھارت جنگ روکنے کا کریڈٹ، مارکو روبیو بھی میدان میں آگئے

کراچی کی گرمی اور لا نینا: بحرالکاہل کے اثرات کیسے پہنچتے ہیں؟

زینگ یامنگ کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ ٹیکنالوجی، تجربہ اور درست حکمت عملی کس طرح کسی کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ترقی نے نہ صرف کمپنی کو آگے بڑھایا بلکہ انہیں ایشیا کے صفِ اول کے امیر ترین افراد میں شامل کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *