دلچسپ و عجیب

پتھروں کی افزائش کا راز، حقیقت کیا ہے؟
پتھروں کی افزائش کا راز، حقیقت کیا ہے؟
دنیا کا سب سے پست قامت جوڑا
دنیا کا سب سے پست قامت جوڑا
مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے
مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے
سفید دودھ سے پیلا مکھن کیوں بنتا ہے؟
سفید دودھ سے پیلا مکھن کیوں بنتا ہے؟
فٹبال ورلڈکپ: جاپانی فین کا انوکھا سفر سوشل میڈیا پر چھا گیا
فٹبال ورلڈکپ: جاپانی فین کا انوکھا سفر سوشل میڈیا پر چھا گیا
ہنی مون کا ایسا انجام! بیوی نے طلاق کا مطالبہ کر دیا
ہنی مون کا ایسا انجام! بیوی نے طلاق کا مطالبہ کر دیا
تیرتا شہر جو پوری دنیا کا چکر لگائے گا
تیرتا شہر جو پوری دنیا کا چکر لگائے گا
چھٹیاں: ذہنی سکون چاہیے؟ ہر دو ماہ بعد چھٹی لیں
چھٹیاں: ذہنی سکون چاہیے؟ ہر دو ماہ بعد چھٹی لیں
وہ انوکھی عمارت: جدید تعمیراتی عجوبہ دنیا کی توجہ کا مرکز
وہ انوکھی عمارت: جدید تعمیراتی عجوبہ دنیا کی توجہ کا مرکز
بزرگ نے تنہائی کے خاتمے کے لیے سپر مارکیٹ میں رہائش اختیار کرلی
بزرگ نے تنہائی کے خاتمے کے لیے سپر مارکیٹ میں رہائش اختیار کرلی

صحت مند رہو

سندھ میں محفوظ خون کی فراہمی کا جدید نظام قائم
سندھ میں محفوظ خون کی فراہمی کا جدید نظام قائم

محفوظ خون کی فراہمی کے لیے جامشورو ریجنل بلڈ سینٹر سے آٹھ سرکاری اسپتالوں کو معیاری خون فراہم کیا جائے گا، ہزاروں مریض مستفید ہوں گے۔

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل

پاکستان میں ہر سال ہزاروں مریض ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی بروقت اور محفوظ خون کی فراہمی پر منحصر ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا، کینسر، حادثات، بڑی سرجریوں اور زچگی کے دوران خون کی ضرورت اکثر زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں حکومتِ سندھ اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کا مشترکہ اقدام ملک کے صحت کے نظام میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتِ سندھ اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے پاکستان کا پہلا مکمل فعال ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔

پاکستان کا پہلا مکمل فعال بلڈ بینکنگ نیٹ ورک

حکومتِ سندھ اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے پاکستان کا پہلا مکمل فعال ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی مرکز ریجنل بلڈ سینٹر جامشورو ہے، جہاں سے حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے آٹھ سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کیا جائے گا۔

یہ تمام بلڈ بینکس آئی ایس او 15189 کے بین الاقوامی معیار کے مطابق تصدیق شدہ ہیں، جس سے خون کی جانچ، ذخیرہ کرنے اور فراہمی کے معیار میں مزید بہتری آئی ہے۔

جہاں سے حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے آٹھ سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کیا جائے گا۔

ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ ماڈل کیا ہے؟

اس ماڈل میں ایک جدید اور مرکزی بلڈ سینٹر (ہب) خون جمع کرتا ہے، اس کی مکمل اسکریننگ کرتا ہے، اسے مختلف اجزاء میں تقسیم کرتا ہے اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرتا ہے۔ بعد ازاں اس سے منسلک اسپتالی بلڈ بینکس (اسپوک) ضرورت کے مطابق محفوظ خون حاصل کرتے ہیں۔

اس نظام سے خون کے ضیاع میں کمی آتی ہے، معیار بہتر ہوتا ہے اور دور دراز علاقوں تک بروقت خون کی فراہمی ممکن بنائی جاتی ہے۔

اس اقدام سے ہزاروں مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی۔

کن اسپتالوں کو فائدہ پہنچے گا؟

جامشورو کا ریجنل بلڈ سینٹر اب لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو و حیدرآباد، سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹالوجی اور ضلع ٹھٹھہ، میرپورخاص، مٹیاری، بدین اور مٹھی کے سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کرے گا۔

اس اقدام سے ہزاروں مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی۔

یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مکمل فعال سرکاری بلڈ بینکنگ نیٹ ورک ہے۔

عالمی تعاون سے مکمل ہونے والا منصوبہ

یہ منصوبہ حکومتِ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا۔ جرمن حکومت نے کے ایف ڈبلیو ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعے پاکستان سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے تحت اس کی مالی معاونت فراہم کی۔

یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مکمل فعال سرکاری بلڈ بینکنگ نیٹ ورک ہے۔

اگر یہ ماڈل ملک کے دیگر حصوں میں بھی نافذ کیا گیا تو پاکستان میں محفوظ خون کی فراہمی کا نظام مزید مضبوط ہو جائے گا۔

رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کا اہم کردار

اس کامیابی کے موقع پر کراچی میں انڈس زندگی کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور شراکت دار اداروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔

نایاب بلڈ گروپس رکھنے والے عطیہ دہندگان کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، کیونکہ انہی کے تعاون سے پاکستان میں پہلی مرتبہ ریڈ سیل ری ایجنٹس کی مقامی تیاری ممکن ہو رہی ہے۔

ہر خون کا عطیہ ایک نئی زندگی

انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ خون کا ہر عطیہ کسی مریض کے لیے نئی زندگی کی امید ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انڈس اسپتال میں تمام طبی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کی بدولت ہر سال ہزاروں جانیں بچائی جاتی ہیں۔

ادارے کی سینئر ڈائریکٹر برائے بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز ڈاکٹر صبا جمال کے مطابق انڈس اسپتال اس وقت نو ہزار سے زائد اسپتالی بستروں کے لیے محفوظ خون کی فراہمی کا انتظام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ خون کے عطیات جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ سات لاکھ سے زیادہ مریض محفوظ خون سے مستفید ہوتے ہیں۔

مستقبل کا منصوبہ

حکومتِ سندھ کا کہنا ہے کہ چار ریجنل بلڈ سینٹرز کے ذریعے مزید سرکاری اسپتالوں کو اس نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ صوبے کے ہر شہری کو بروقت، محفوظ اور معیاری خون دستیاب ہو سکے۔

اگر یہ ماڈل ملک کے دیگر حصوں میں بھی نافذ کیا گیا تو پاکستان میں محفوظ خون کی فراہمی کا نظام مزید مضبوط ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کیا دیکھا؟

مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے

نتیجہ

جامشورو میں قائم ہونے والا ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک صرف ایک طبی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے صحت کے شعبے میں ایک اہم اصلاح ہے۔

یہ نظام محفوظ خون کی بروقت فراہمی، بین الاقوامی معیار پر مبنی بلڈ بینکنگ اور رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے فروغ کے ذریعے ہزاروں قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

صحت مند افراد کے لیے خون کا ایک عطیہ کسی اجنبی کے لیے نئی زندگی کا تحفہ بن سکتا ہے، اور یہی ایک صحت مند، محفوظ اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔

سؤر کے اعضا انسان میں لگ گئے، طبی سائنس میں بڑا انقلاب
سؤر کے اعضا انسان میں لگ گئے، طبی سائنس میں بڑا انقلاب
اسمارٹ فونز: آبادی میں کمی کی بڑی وجہ سامنے آگئی
اسمارٹ فونز: آبادی میں کمی کی بڑی وجہ سامنے آگئی
آم کھائیں اور ان بیماریوں سے دور رہیں
آم کھائیں اور ان بیماریوں سے دور رہیں

ٹیکنالوجی

دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کیا دیکھا؟
دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کیا دیکھا؟

دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرے ویرا سی روبن آبزرویٹری میں فعال، آئندہ 10 سال تک ہر رات سینکڑوں تصاویر ریکارڈ کرے گا

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کائنات کی حیرت انگیز تصاویر لینا شروع کر دی ہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق، ویرا سی روبن آبزرویٹری نے باضابطہ طور پر کائنات کا اپنا سروے شروع کر دیا ہے۔

محققین کو امید ہے کہ روبن آبزرویٹری کے مشاہدات سے کائنات کی بہتر مردم شماری کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ دوربین ہر رات 10 سال تک تصاویر ریکارڈ کرے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ دوربین چِلی کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر نصب ہے۔ یہ آئندہ 10 سال تک ہر رات سینکڑوں تصاویر ریکارڈ کرے گی۔

محققین کو امید ہے کہ روبن آبزرویٹری کے مشاہدات سے کائنات کی بہتر مردم شماری کرنے میں مدد ملے گی۔

سائنسدانوں کے لیے اہم پیش رفت

آبزرویٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز، فل مارشل نے کہا کہ دنیا بھر کے سائنسدان اس ڈیٹا سیٹ پر کام کریں گے اور کائنات کا اس انداز میں مطالعہ کریں گے، جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

یاد رہے کہ ایک نوری سال تقریباً 6 ٹریلین میل، یعنی 9.7 ٹریلین کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔

پہلی تصاویر میں کیا شامل تھا؟

روبن آبزرویٹری نے گزشتہ سال اپنی پہلی تصاویر جاری کی تھیں، جن میں زمین سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر واقع ٹرائیفڈ نیبولا اور لیگون نیبولا کی رنگین تصاویر بھی شامل تھیں۔

یاد رہے کہ ایک نوری سال تقریباً 6 ٹریلین میل، یعنی 9.7 ٹریلین کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے

فیفا ورلڈ کپ: ارجنٹینا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی

یہ تصاویر سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ اربوں سال کے دوران کہکشائیں کیسے بنتی اور ایک دوسرے سے جڑتی رہیں، اور کائنات کا وجود کیسے عمل میں آیا۔

سمندری پانی سے بغیر بجلی پینے کا پانی تیار
سمندری پانی سے بغیر بجلی پینے کا پانی تیار
وائی فائی 8: سست انٹرنیٹ کا حل؟
وائی فائی 8: سست انٹرنیٹ کا حل؟
ایلون مسک کی اے آئی سے متعلق اہم پیشگوئی
ایلون مسک کی اے آئی سے متعلق اہم پیشگوئی

پاکستان آؤ