خواتین کی ترقی، محفوظ، باوقار اور مساوی روزگار کے مواقع کا مشن، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، یو این ڈی پی اور یورپی اتحاد کے تعاون سے اجلاس،
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور یورپی اتحاد کے تعاون سے حقوقِ پاکستان 2 منصوبے کے تحت نجی شعبے میں صنفی مساوات کے موضوع پر کراچی میں پہلا صوبائی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔



اجلاس کی صدارت اور خطاب چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں محترمہ اُمہ لیلیٰ اظہر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محض علامتی اقدامات کافی نہیں۔ خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور مساوی کام کے مواقع اور مؤثر داد رسی کا نظام یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز اور نجی روزگار کا بڑا محور ہے۔ اسی لیے اس مکالمے کے آغاز کے لیے یہ موزوں مقام ہے۔ یہاں خواتین کو رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں متعدد عملی مسائل کا سامنا ہے۔
چیئرپرسن نے واضح کیا کہ ملازمت کے دوران امتیاز، ہراسانی اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں، تاہم کمزور نفاذ، ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی اور طاقت کے عدم توازن کے باعث خواتین کو بھرتی، مساوی اجرت، ملازمت کے تحفظ، پیشہ ورانہ ترقی اور شکایات کے ازالے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

مشاورتی اجلاس میں نجی شعبے، مالیاتی اداروں، ٹیکسٹائل و ملبوسات، صنعت، خدماتی شعبے، گھریلو اور غیر رسمی محنت سے وابستہ خواتین، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور خواتین کے حقوق کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گروہی مباحثوں کے دوران شرکاء نے اپنے عملی تجربات کی بنیاد پر سفارشات پیش کیں۔ ان میں کام کی جگہ پر مساوی پالیسیاں، اجرت میں برابری، ہراسانی سے تحفظ، مؤثر شکایتی نظام اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں
میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر جذام کیخلاف جدوجہد کی علامت
کراچی میں انٹرنیشنل چائلڈہُڈ کینسر ڈے تقریب، اُمید اور خوشی کے رنگ



چیئرپرسن نے کہا کہ صنفی مساوات صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی اور سماجی انصاف کی بنیاد ہے۔
کراچی اجلاس کی سفارشات قومی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کا حصہ بنیں گی اور آئندہ پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کریں گی۔
یہ مشاورتی عمل پشاور، لاہور اور کوئٹہ میں بھی جاری رہے گا۔


