March 12, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
چین کی ترقی کا روڈ میپ پاکستانی استاد نے دوطرفہ فائدے کا محرک قرار دے دیا
China Development Roadmap: Pakistani Teacher Calls It a Catalyst for Mutual Growth

چین کی ترقی کا روڈ میپ پاکستانی استاد نے دوطرفہ فائدے کا محرک قرار دے دیا

چین کی ترقی کے روڈ میپ میں پاکستان کے لیے زرعی، توانائی اور ڈیجیٹل تعاون کے نئے مواقع ہیں، چینی کالج میں پاکستانی استاد حافظ تنویر حمید کو یقین

چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار خطے کے کاؤنٹی سطح کے شہر پھنگ گو کی لہراتی زمین سبز زمردی رنگ میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔ چاول کے کھیت، گنا اور سب ٹراپیکل موسم کے منفرد پھل وسیع رقبے پر پھیلے پرسکون کھیتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کھیتوں کے اوپر کبھی کبھار زرعی ڈرون کی تیز آواز گونجتی ہے جو جدید زرعی ٹیکنالوجی کی علامت ہے۔

مقامی طور پر ہان جون کے نام سے جانے جانے والے انگریزی کے پاکستانی استاد اور سوشل میڈیا انفلوئنسر حافظ تنویر حمید کے لیے یہ منظر صرف کام کی جگہ نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل کینوس بھی ہے۔ وہ پھنگ گو کے ایک پیشہ ورانہ کالج میں کئی سال سے تدریس کر رہے ہیں اور دیہی ترقی کے عمل کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تجربات پاکستان کے لیے بھی ایک مؤثر نمونہ بن سکتے ہیں۔

چین کا نیا پانچ سالہ منصوبہ اور عالمی تعاون

چین نے حال ہی میں بیجنگ میں منعقد ہونے والے دو اہم اجلاسوں کے دوران اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کا مسودہ جاری کیا۔ اس منصوبے میں اعلیٰ معیار کی ترقی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

منصوبے میں ماحول دوست ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبوں میں چین کی ٹیکنالوجی کو عالمی برادری کے ساتھ بانٹنے کی حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔

حافظ تنویر حمید کے مطابق یہ دستاویز صرف ایک سرکاری پالیسی نہیں بلکہ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو مزید مؤثر بنانے کا اشارہ ہے جس میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحول دوست توانائی، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کو ترجیح دینے سے ایسا ماحول پیدا ہوگا جس سے پاکستان جیسے ممالک اپنی ترقی کے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

زرعی ترقی اور ٹیکنالوجی کا امتزاج

پھنگ گو کے انتظامی دائرے میں شامل شہر بائس میں زرعی ترقی نمایاں ہے۔ 2025 تک اس شہر کی اناج کی پیداوار 11 لاکھ ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس علاقے کی سب سے قیمتی پیداوار بائس کا مخصوص آم ہے۔ یہ آم کی صنعت تقریباً 2 لاکھ 59 ہزار 840 ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جس کی مجموعی مالیت تقریباً 111.35 ارب یوآن یعنی لگ بھگ 16.1 ارب امریکی ڈالر ہے۔

حافظ تنویر حمید ان باغات کے قریب رہتے ہیں اور انہوں نے روایتی زرعی طریقوں میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قریب سے دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سروے اور اسپرے کے لیے بغیر پائلٹ فضائی ڈرون کا استعمال نہ صرف ایک دلکش منظر ہے بلکہ یہ ایک درست اور مؤثر زرعی آلہ بھی ہے۔ اس سے کیمیکل کے ضیاع میں کمی اور مزدوری کی لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کے لیے فوری موقع خشک آب و ہوا کے لیے موزوں مضبوط فصلوں اور کم لاگت فضائی ٹیکنالوجی کے استعمال میں موجود ہے۔

توانائی کے شعبے میں مواقع

بائس کے پہاڑی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ونڈ ٹربائنز بھی نمایاں ہیں۔ حافظ تنویر حمید کے مطابق ایسا منظر سندھ کے ساحلی علاقوں اور بلوچستان کے دھوپ والے میدانوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

چین کے نئے منصوبے میں آئندہ دہائی کے دوران غیر فوسل توانائی کے استعمال کو دوگنا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ فوسل ایندھن کی جگہ ہوا، شمسی اور پن بجلی جیسے صاف توانائی کے ذرائع استعمال کیے جا سکیں۔

یہ حکمت عملی پاکستان کے اس ہدف سے بھی ہم آہنگ ہے جس کے تحت 2030 تک بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے۔

حمید کے مطابق چین کی بجلی کے نظام کی جدید کاری اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی اس تعاون میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

Hafiz Tanveer Hameed tested China’s electric vehicles and described them as an example of affordable and modern electric transport.
حافظ تنویر حمید نے چین کی الیکٹرک گاڑیوں کا تجربہ کیا اور انہیں سستی اور جدید الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی ایک مثال قرار دیا۔

الیکٹرک گاڑیاں اور صنعتی تعاون

عملی تعاون کے شعبے میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ فروری میں لیو ژو میں قائم کار ساز کمپنی ایس اے آئی سی جی ایم وولنگ نے پاکستان کو بنگو ای وی گاڑیوں کا پہلا بیچ برآمد کیا۔

یہ بھی پڑھیں

نئے چینی سال کے میلے میں پاکستانی ذائقوں کی دھوم

حافظ تنویر حمید نے ان گاڑیوں کا تجربہ کیا اور انہیں سستی اور جدید الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی ایک مثال قرار دیا۔

ان کے مطابق اگر چینی کمپنیاں پاکستان میں اسمبلی پلانٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کریں تو اس سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمت کم ہوگی بلکہ مقامی تکنیکی مہارت بھی فروغ پائے گی۔

ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت

چین میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی بھی نمایاں ہے۔ ہوٹلوں میں ڈیلیوری روبوٹس سے لے کر جنریٹو اے آئی پلیٹ فارم تک کئی جدید ٹیکنالوجیز روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔

حمید کے مطابق تعلیمی ماحول میں ان سسٹمز کی کارکردگی اور فوری ردعمل حیران کن ہے۔

چین کے منصوبے میں ڈیجیٹل ذہانت کو فروغ دینے کے لیے کمپیوٹنگ پاور، الگورتھمز اور ڈیٹا کی اعلیٰ کارکردگی کو ترجیح دی گئی ہے۔

حمید کو امید ہے کہ پاکستان بھی جلد سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ، ڈیجیٹل صحت عامہ اور حقیقی وقت میں زرعی نگرانی جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرائے گا۔

تعلیم اور ٹیکنالوجی میں مشترکہ مواقع

ایک استاد کے طور پر حافظ تنویر حمید دونوں ممالک کے درمیان ٹیلنٹ کے تبادلے کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کے لیے مشترکہ تحقیق، نوجوان انجینئرز کی تکنیکی تربیت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری سے پاکستان اپنے مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دے سکتا ہے اور ایک جدید معیشت کی طرف تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×