March 17, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
چین کی پہاڑی کاشت کاری سے پاکستان میں زرعی ترقی کے نئے امکانات
China Mountain Farming Technology Begins Sowing Seeds of Prosperity in Pakistan

چین کی پہاڑی کاشت کاری سے پاکستان میں زرعی ترقی کے نئے امکانات

China Mountain Farming Technology Begins Sowing Seeds of Prosperity in Pakistan

چین کی پہاڑی کاشت کاری میں استعمال ہونے والی جدید زرعی مشینری پاکستانی کسان خدریدنے لگے، سینکڑوں کسانوں کے لئے تربیتی پروگرامات

گوئی یانگ (شِنہوا) — بہار تہوار کی تعطیلات کے بعد چائنہ نیشنل آٹوموٹو انڈسٹری امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ گوئی ژو کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر لین چھاؤ ہونگ مارچ میں پاکستان کے دورے کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں ۔

اس مشن میں وہ ایک تکنیکی ٹیم کی قیادت کریں گے جو پاکستان میں مقامی کسانوں کو پہاڑی علاقوں کے لیے تیار کردہ جدید زرعی مشینری کے استعمال کی تربیت دے گی ۔

یہ ٹیم کسانوں کو مختلف آلات، عملی تربیت اور مشینریز کی دیکھ بھال کے لئے خدمات فراہم کرے گی تاکہ وہ مشکل جغرافیائی علاقوں میں بھی مؤثر کاشت کاری کر سکیں ۔

چین — جنوبی ایشیا ایکسپو سے تعاون کا آغاز

یہ تعاون گزشتہ سال 2025 کے جون میں چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے دارالحکومت کونمنگ میں منعقد ہونے والی چین-ساؤتھ ایشیا ایکسپو 2025 کے دوران شروع ہوا۔

اس نمائش کے دوران لین چھاؤ ہونگ کی ٹیم کو پاکستانی خریداروں کی جانب سے چاول کی پنیری لگانے والی 30 الیکٹرک مشینوں کا آرڈر ملا ۔ یہ مشینیں گوئی ژو کی غیر ہموار پہاڑی زمین جیسے علاقوں میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔

لین چھاؤ ہونگ کے مطابق، گوئی ژو کا جغرافیہ پاکستان کے بعض علاقوں سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتا ہے ۔ اسی لیے دونوں فریقوں نے مٹی کی خصوصیات، گہرائی، گرفت اور ریت کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے مشینری کو مزید بہتر بنانے کے منصوبوں پر بھی بات کی۔ مصنوعات کی موزونیت دیکھتے ہوئے پاکستانی خریداروں نے اسی موقع پر آرڈر پر دستخط کیے۔

ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجی

لین چھاؤ ہونگ نے بتایا کہ یہ جدید ٹرانسپلانٹر مشینیں ماحول دوست ہیں اور لیتھیئم آئن بیٹریوں سے چلتی ہیں۔ ایک بار چارج ہونے کے بعد یہ مشینیں 6 سے 8 گھنٹے تک مسلسل کام کر سکتی ہیں۔

ان مشینوں کی پہلی کھیپ رواں سال مارچ میں پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔

زرعی ماہرین کا تبادلہ بھی جاری

مشینری کے ساتھ ساتھ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی ماہرین کا تبادلہ بھی جاری ہے ۔ گوئی ژو یونیورسٹی کے شعبہ پلانٹ پروٹیکشن میں تحقیق کرنے والے پوسٹ ڈاکٹورل فیلو حافظ محمد عثمان اس تعاون میں ایک اہم رابطہ بن چکے ہیں ۔

گوئی ژو یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی ولیج چیف پروگرام کے تحت حافظ محمد عثمان اپنے آبائی صوبے پنجاب واپس آئے ۔ انہوں نے وہاں مشاہدہ کیا کہ مقامی کسان پودوں کی بیماریوں اور کیڑوں کے مؤثر تدارک کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

چین کی ترقی کا روڈ میپ پاکستانی استاد نے دوطرفہ فائدے کا محرک قرار دے دیا

انہوں نے ماحول دوست کیڑے مار ادویات اور بیماریوں پر قابو پانے کے طریقوں سے متعلق اپنی تحقیق کو عملی طور پر متعارف کرایا ۔ موسم سرما کے دوران انہوں نے تین سیمینار منعقد کیے جن میں 500 سے زائد کسانوں کو پائیدار کاشت کاری کے طریقوں سے آگاہ کیا گیا ۔

دیہی ترقی کے تجربات کا تبادلہ

گوئی ژو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ولیج چیف پروگرام کے بانی اور پوسٹ ڈاکٹورل سپروائزر وانگ یونگ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد گوئی ژو کے دیہی ترقی کے تجربات کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنا ہے ۔

ان کے مطابق،چین کی پہاڑی کاشت کاری کا یہ ماڈل باہمی فائدے پر مبنی ہے اور مختلف ممالک کے لیے قابل عمل مثال بن سکتا ہے ۔

غربت کے خاتمے کے تجربات میں دلچسپی

یہ تعاون اب پالیسی اور گورننس کے خیالات کے تبادلے تک بھی پھیل چکا ہے ۔ اگست 2025 میں پاکستانی میڈیا اور تھنک ٹینکس کے ایک وفد نے گوئی ژو کا دورہ کیا تاکہ وہاں غربت کے خاتمے کی حکمت عملیوں کا مطالعہ کیا جا سکے ۔

دورے کے بعد پاکستانی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ گوئی ژو غربت کے خاتمے کا ایک نمایاں نمونہ ہے اور اس کے تجربات پنجاب کے لیے قیمتی اسباق فراہم کر سکتے ہیں ۔

مستقبل میں تعاون کے امکانات

لین چھاؤ ہونگ کے مطابق، پاکستان کا آئندہ دورہ صرف تکنیکی خدمات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس دوران جامع معائنہ اور مزید تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت کی جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی خریداروں کی جانب سے ٹریکٹرز اور دیگر زرعی مشینری میں بھی دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے ۔

ان کے مطابق، مستقبل میں زرعی ٹیکنالوجی، کسانوں کی تربیت اور غربت کے خاتمے کے شعبوں میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون مزید بڑھنے کی توقع ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×