March 29, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
پاک چین زرعی تعاون: تبادلوں میں اضافہ ضروری
Pak-China Agricultural Cooperation: Call to Expand Exchanges and Joint Research in Buffalo Industry

پاک چین زرعی تعاون: تبادلوں میں اضافہ ضروری

Pak-China Agricultural Cooperation: Call to Expand Exchanges and Joint Research in Buffalo Industry

پاک چین زرعی تعاون کے فروغ کے لئے سائنسی تبادلوں، جنین ٹیکنالوجی اور بیجوں کی صنعت میں مشترکہ اختراع ضروری قرار

نان ننگ : نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی ایک نمائندہ لیاؤ یوینگ نے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے بھینسوں کی صنعت میں سائنسی تبادلوں اور اشتراک کو بڑھانے پر زور دیا ہے۔

لیاؤ یوینگ چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور گوانگ شی ژوانگ خود مختار علاقے کے ماتحت بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تحقیقی اداروں کے درمیان ہر سال عملے کا تبادلہ کیا جاتا ہے تاکہ ماہرین سیکھ سکیں اور نئی صلاحیتیں پیدا ہوں۔

ان کے مطابق اس عمل سے دونوں ممالک کے درمیان بھینسوں کی صنعت میں تعاون کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں ان تبادلوں اور مشترکہ منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے گی ۔

بھینسوں کی صنعت: مشترکہ تعاون کا اہم شعبہ

گوانگ شی میں بھینسوں کی صنعت مقامی زراعت کا اہم حصہ ہے اور پاک چین زرعی تعاون میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاک چین جوائنٹ ریسرچ سینٹر فار بفیلو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم سے دونوں ممالک نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

روڈ رنرصحرائی پرندہ جو 32 کلومیٹر فی گھنٹہ دوڑتا ہے

چین کی ترقی کا روڈ میپ پاکستانی استاد نے دوطرفہ فائدے کا محرک قرار دے دیا

ان کامیابیوں میں پاکستان کو بیماریوں سے پاک پہلا چراگاہ قائم کرنے میں مدد دینا اور بھینسوں کے جنین کی پیداوار کے لئے سمندر پار مشترکہ لیبارٹری کا قیام شامل ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی

چینی اور پاکستانی تکنیکی ماہرین نے مشترکہ ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان میں پہلی بار ان ویٹرو جنین کی پیداوار، جنین کو منجمد کرنے کی تکنیک، جنین کی منتقلی اور جینوم پر مبنی افزائش نسل جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز متعارف کرائیں۔

ان اقدامات سے ڈیری بھینسوں کی افزائش نسل میں موجود جدید تکنیکی خلا کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

نیلی راوی بھینسوں کے جنین کی کامیاب پیداوار

جون 2024 میں چین نے پاکستان سے پانچ ہزار نیلی راوی بھینسوں کے جنین درآمد کئے۔ اپریل 2025 میں گوانگ شی کے شہر نان ننگ میں قائم پاک چین ڈیری بفیلو بریڈنگ ڈیمانسٹریشن فارم میں ان جنین سے کامیابی کے ساتھ بچھڑے پیدا ہوئے۔

اسی سال مارچ میں جنین کی منتقلی کے ذریعے پہلی خالص نسل کی نیلی راوی مادہ بچھڑی گوانگ شی کی لنگ شان کاؤنٹی کے ایک فارم میں پیدا ہوئی۔ اس علاقے کو عموماً “چین کی ڈیری بھینسوں کا گھر” کہا جاتا ہے۔

یہ کامیابی اس تکنیکی ماڈل کی مؤثریت ثابت کرتی ہے جس میں اعلیٰ معیار کے غیر ملکی جنین کو مقامی وصول کنندہ جانوروں کے ذریعے پروان چڑھایا جاتا ہے۔

سائنسی تبادلوں اور مشترکہ اختراع کی تجویز

لیاؤ یوینگ کئی برسوں سے پاک چین زرعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی حامی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھینسوں کی صنعت کو بنیاد بنا کر دونوں ممالک کو سائنسی تبادلوں اور بیجوں کی صنعت میں مشترکہ اختراع کو فروغ دینا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ بھینسوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں پاک چین تعاون صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی تک محدود نہیں بلکہ اس میں جینیاتی وسائل کا تبادلہ، مشترکہ تربیت اور مربوط صنعتی ترقی بھی شامل ہے۔

ان کے مطابق مشترکہ تحقیق کے نتیجے میں پاکستان میں بھینسوں کی افزائش نسل کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ چین کو بھی اعلیٰ معیار کے قیمتی جینیاتی وسائل حاصل ہوئے ہیں ۔

مزید تعاون کے لئے تجاویز

لیاؤ یوینگ نے پاک چین جوائنٹ ریسرچ سینٹر کی مسلسل حمایت جاری رکھنے اور بیجوں کی صنعت میں اختراع، جنین ٹیکنالوجی اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مشترکہ منصوبوں کو وسعت دینے کی تجویز دی ۔

انہوں نے زندہ جانوروں کی درآمد کے امکانات تلاش کرنے پر بھی زور دیا تاکہ ڈیری بھینسوں کے جینیاتی وسائل کے دو طرفہ بہاؤ کو آسان بنایا جا سکے۔

ساتھ ہی انہوں نے ٹیلنٹ کے تبادلے اور تربیتی پروگراموں کو بڑھانے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین آسیان آزاد تجارتی علاقے جیسے پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سی پیک میں زرعی تعاون کی اہمیت

لیاؤ یوینگ نے کہا کہ زرعی تعاون چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق بھینسوں کی صنعت مضبوط بنیاد اور وسیع امکانات رکھتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے سائنسی اور صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ اعلیٰ معیار کی زرعی ترقی کو فروغ ملے اور عوام کے روزگار اور ذریعہ معاش میں بہتری آئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×