ماہی گیر خاندانوں کا شکوہ، حکومت اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی جانب سے مالی و اخلاقی مدد نہ ملنے پر تشویش بھارتی جیلوں میں قید ماہی گیروں کے گھروں میں خوشیوں کا رنگ ماند پڑ گیا۔
ویب نیوز رپوٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی : عید کے دوسرے دن بھی بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کے اہلِ خانہ انتظار کی اذیت میں مبتلا رہے۔
کراچی کی ساحلی بستی ابراہیم حیدری اور دیگر علاقوں میں عید کا دوسرا دن بھی اداسی میں گزرا۔ بھارتی جیلوں میں قید ماہی گیروں کے گھروں میں خوشیوں کا رنگ ماند پڑ گیا۔
عید جیسے خوشی کے موقع پر بھی ان گھروں میں نہ مسکراہٹ لوٹ سکی اور نہ ہی خوشی کا کوئی منظر نظر آیا۔
حکومتی مدد نہ ملنے کا شکوہ
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ نہ سندھ حکومت نے مدد کی، نہ وفاقی حکومت نے توجہ دی اور نہ ہی فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی نے قیدی ماہی گیروں کے اہلِ خانہ کی کوئی مالی یا اخلاقی معاونت کی۔
ان کے مطابق یہ وہ ماہی گیر ہیں جو سمندر میں محنت کر کے رزق کماتے ہیں۔ یہی ماہی گیر ہر سال تقریباً چوبیس ارب روپے کا ٹیکس ادا کر کے قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ٹیکس کے استعمال پر سوال
اہلِ علاقہ اور سماجی کارکنوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ماہی گیروں کے ٹیکس کی مد میں وصول ہونے والے اربوں روپے آخر کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی بھی انہی ماہی گیروں کے ٹیکس سے چلتی ہے، مگر آج وہی ادارہ ان کے دکھ درد میں شریک دکھائی نہیں دیتا۔
قیدی ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ
متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ پاکستان، خصوصاً وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی سمیت 9 اضلاع میں خطرے کی گھنٹی بج گئی
پاکستان میں اسموگ: عوام کی صحت کو خطرہ
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیدی ماہی گیروں کے خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا جائے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں سہارا حاصل کر سکیں۔
شفاف احتساب کی ضرورت
اہلِ خانہ نے مزید مطالبہ کیا کہ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کو جوابدہ بنایا جائے اور ماہی گیروں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کا شفاف حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے صرف بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں، تاکہ ان متاثرہ خاندانوں کی عید بھی خوشیوں میں بدل سکے۔


