مینوپاز کے دوران علامات بڑھنے کے ساتھ مصنوعات کی مارکیٹنگ میں بھی تیزی، ڈاکٹرز کا مشورہ، استعمال سے پہلے ضرور طبی رہنمائی حاصل کریں
خصوصی ہیلتھ نیوز فیچر، روبینہ یاسمین
دورے (ہاٹ فلیشز)، رات کو پسینہ آنا، موڈ میں تبدیلی اور نیند کے مسائل شامل ہیں۔ اسی دوران وہ آئینے میں خود کو دیکھتی ہیں۔ نتیجتاً بڑھتی عمر کی علامات زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔
چنانچہ اس مرحلے میں مختلف مصنوعات کی تشہیر بھی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً خواتین کو ایسی اشیا خریدنے کی ترغیب دی جاتی ہے جو جوانی برقرار رکھنے یا علامات کم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
دوسری جانب مینوپاز اور پیری مینوپاز پر اب زیادہ کھل کر بات ہو رہی ہے۔ تاہم اس معاملے پرسوشل میڈیا نے مارکیٹنگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی لیے خواتین کو لوشنز، سیرمز، لائٹ ماسک، غذائی سپلیمنٹس اور دیگر مصنوعات دکھائی جاتی ہیں۔ یہ مصنوعات چہرے اور گردن کو جوان بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موڈ بہتر کرنے اور گرم دورے کم کرنے کا بھی دعویٰ کرتی ہیں۔
تاہم ماہرینِ صحت کہتے ہیں کہ ان مصنوعات پر خرچ کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ کیا چیز واقعی فائدہ مند ہے اور کیا نہیں۔

مینوپاز میں جسمانی تبدیلیاں
ماہرین کے مطابق، جب خواتین میں ماہواری بند ہونے لگتی ہے تو ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کم ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً جسم میں کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان میں سے چند قابل توجہ ہیں مثلاََ
گرم دورے
رات کو پسینہ
موڈ میں تبدیلی
اندام نہانی میں خشکی۔

نیند کے مسائل
ماضی میں ڈاکٹروں کی جانب سے عام طور پر 50 سال کی عمر میں سالانہ معائنے کے دوران ان علامات کے بارے میں پوچھا جاتا تھا۔ تاہم اب صورتحال بدل گئی ہے۔ اب بہت سی خواتین خود ڈاکٹر سے ملاقات کرتی ہیں۔ اور وہ خود اس بارے میں گفتگو شروع کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ خواتین پہلے ہی مختلف مصنوعات آزما چکی ہوتی ہیں۔ لیکن جب یہ مصنوعات فائدہ نہیں دیتیں تو مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔ نتیجتاً بعض اوقات سائیڈ ایفیکٹس بھی سامنے آتے ہیں۔ اس کے بعد خواتین طبی مشورہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

مارکیٹنگ کا بڑھتا دباؤ
مینوپاز سے متعلق مصنوعات کی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ چنانچہ اب ایسی کئی اشیا بھی سامنے آ رہی ہیں جن کے دعوے حیران کن ہیں
اوّل : ایسے کنگن یا انگوٹھیاں جو گرم دوروں کو کم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں
دوئم : ٹھنڈی کمبل یا بستر جو رات کے پسینے میں مدد دینے کا دعویٰ کرتے ہیں

مختلف غذائی سپلیمنٹس
تاہم ماہرین کے مطابق، غذائی سپلیمنٹس کے بارے میں ابھی تک مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں کہ وہ واقعی گرم دوروں کو کم کرتے ہیں۔
اگرچہ ان میں سے کئی مصنوعات کم قیمت اور نسبتاً محفوظ ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اوور دی کاؤنٹر مصنوعات جیسے شیمپو، سپلیمنٹس یا جلد کی نگہداشت کی اشیا دراصل عام مصنوعات ہی ہوتے ہیں اور ان کے اجزا میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔

ڈاکٹروں کا مشورہ
ماہرین کے مطابق، ہر خاتون میں مینوپاز کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
کچھ خواتین کو بہت کم یا کوئی علامت محسوس نہیں ہوتی، جبکہ بعض خواتین شدید مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بعض خواتین کے لیے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ہارمون تھراپی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس بعض مریضوں کے لیے بغیر ہارمون والی ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔
البتہ بعض طبی مسائل کی وجہ سے کچھ خواتین کے لیے ہارمون تھراپی مناسب نہیں ہوتی۔
اسی دوران ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چند سادہ عادات علامات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، مثلاً
باقاعدہ ورزش
صحت مند غذا
وزن میں کمی
الکحل سے پرہیز
یوں طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں بھی کافی فائدہ دے سکتی ہیں۔

جلد میں تبدیلیاں
مینوپاز کے دوران جلد میں بھی نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس مرحلے میں کولیجن اور ہائیالورونک ایسڈ کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔ نتیجتاً جلد پتلی ہو سکتی ہے اور جھریاں زیادہ نمایاں نظر آ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق
ڈاکٹر کی تجویز کردہ ریٹینوئڈ یا اوور دی کاؤنٹر ریٹینول کولیجن کی پیداوار بڑھانے اور جھریاں کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اچھے موئسچرائزر استعمال کرنے چاہئیں جن میں سیرا مائیڈز موجود ہوں۔
تاہم ایسی مصنوعات سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں بہت زیادہ اضافی اجزا یا نباتاتی عناصر شامل ہوں کیونکہ وہ بعض افراد میں الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ماہرین کے مطابق کولیجن سپلیمنٹس کے بارے میں تحقیق ابھی متضاد ہے۔ اس لیے انہیں کھانے سے یہ ضروری نہیں کہ وہ براہِ راست جلد تک پہنچ کر چہرے کو جوان بنا دیں۔
علاوہ ازیں لائٹ ماسک سے فوری نتائج کی توقع بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ممکنہ فائدہ بھی طویل عرصے تک مسلسل استعمال کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے ہونے والا نقصان جھریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسی لیے ہر عمر میں سن اسکرین کا باقاعدہ استعمال ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
امن اور عالمی استحکام کے لیے پاکستان پرعزم ہے، ڈاکٹر مصدق ملک
ایم پاکس الرٹ: سندھ میں بڑھتے کیسز، علامات، پھیلاؤ اور بچاؤ سے متعلق رہنمائی
ذاتی تجربہ
انُتالیس 49 سالہ برانڈی میک گرودر کو اس وقت اندازہ ہوا کہ وہ پیری مینوپاز کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جب ایک موقع پر انہیں اچانک شدید سردی محسوس ہوئی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ گرمی سے بے حال ہو گئیں۔
بعد میں انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ ڈاکٹر نے انہیں ایسٹروجن پیچ تجویز کیا جس کے بعد انہیں کافی آرام محسوس ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ علامات بڑھتی عمر کا احساس دلاتی ہیں، لیکن وہ اس مرحلے کو مثبت انداز میں قبول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق
ہنسیں، دوسروں سے بات کریں جو اسی مرحلے سے گزر رہے ہیں، اور زندگی کو بہت زیادہ سنجیدہ نہ لیں۔

