بھارتی سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عوامی تحفظ کو ترجیح، ریاستی حکومتوں کی کارکردگی پر برہمی
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
بھارت کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ آف انڈیا نے آوارہ کتوں سے متعلق ایک اہم مقدمے میں حکام کو مخصوص حالات میں خطرناک کتوں کو مارنے کی اجازت دے دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت میں آوارہ کتوں کی منتقلی سے متعلق درخواست میں ترمیم پر سماعت ہوئی۔ مقدمے کی سماعت جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بینچ نے کی۔

عدالت کے اہم ریمارکس
عدالت نے درخواستیں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے جانور جو انسانوں کے لیے خطرہ بن جائیں، انہیں قانونی طریقۂ کار کے تحت مارا جا سکتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ متعلقہ قوانین، خاص طور پر جانوروں کی افزائش پر قابو پانے کے ضوابط، کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔

حملوں کے واقعات پر تشویش
عدالت نے کہا کہ وہ ان واقعات کو نظر انداز نہیں کر سکتی جہاں آوارہ کتوں نے لوگوں، خصوصاً بچوں، پر حملے کیے۔
ریاستی حکومتوں پر برہمی
فیصلے کے دوران عدالت نے ریاستی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔
عدالت کے مطابق ماضی کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ آوارہ کتوں کے مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں بھی ناکامی رہی۔
یہ بھی پڑھیں
رجنی کانت کا وجے کے الیکشن سے متعلق اہم بیان
پس منظر
یہ فیصلہ بھارت میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر جاری بحث میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ایک طرف انسانی جانوں کے تحفظ کا معاملہ ہے، جبکہ دوسری جانب جانوروں کے حقوق بھی زیر بحث ہیں۔


