کراچی یونیورسٹی تھانہ کے قیام سے طلبہ میں خوف و ہراس، انتظامیہ نے چھ ماہ کے لیے اجازت دے دی
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی سائنس کیمپس گلشنِ اقبال میں پولیس تھانہ قائم کر دیا گیا ہے۔
عزیز بھٹی تھانے کو اس کی موجودہ جگہ سے اردو یونیورسٹی کے بی ایس سی بلاک کے پیچھے منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تھانے کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔عزیز بھٹی تھانے کی انویسٹی گیشن برانچ منتقل ہو چکی ہے۔جبکہ ایس ایچ او کا دفتر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

انتظامی اجازت اور مدت
تھانے کی منتقلی کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت لی گئی ہے۔انتظامیہ نے ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے تھانے کی منتقلی کی اجازت دی ہے۔
پولیس کو اکیڈمک بلاک کے عقب میں جگہ فراہم کی گئی ہے۔ اسی جگہ پر تھانے کا نیا سیٹ اپ قائم کیا جا رہا ہے۔ ۔
پولیس دفاتر اور سرگرمیاں
پولیس ذرائع کے مطابق تھانے کے متعدد دفاتر یونیورسٹی میں منتقل ہو چکے ہیں۔آئندہ چند روز میں ایس ایچ او عزیز بھٹی بھی اردو یونیورسٹی میں بیٹھیں گے۔
یونیورسٹی میں قائم تھانے میں سائلین کی آمد و رفت بھی شروع ہو چکی ہے۔پولیس کی جانب سے ملزمان کو لانے اور لے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
داخلی راستہ اور روزمرہ نظام
ذرائع کے مطابق پولیس کی آمد و رفت اسی داخلی دروازے سے ہو رہی ہےجہاں سے طلبہ اور اساتذہ امتحانی شعبے میں داخل ہوتے ہیں۔
طلبہ میں تشویش
تھانے کی منتقلی کے بعد طلبہ و طالبات، بالخصوص طالبات میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔یونیورسٹی میں پولیس موبائل بھی مستقل طور پر موجود ہے۔
اساتذہ برادری نے بھی اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی ماحول پر اثرات کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
رجنی کانت کا وجے کے الیکشن سے متعلق اہم بیان
رجسٹرار کا مؤقف
اردو یونیورسٹی کے رجسٹرار کے مطابق انہیں تھانے کی منتقلی کا علم آج ہی ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے کوئی اجازت نامہ دستخط کر کے جاری کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کیمپس افسر نے وائس چانسلر سے اجازت لی ہو۔تاہم ان کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی میں تھانے کا قیام مناسب نہیں


