چائے: پاکستانی طالبعلم زید محمود چین میں ٹی سائنس کی تعلیم کے ذریعے پاکستان اور چین کی ثقافتوں کو قریب لانے کے مشن پر گامزن
شِنہوا
ہیفے: چین کے مشرقی شہر ہیفے میں قائم آنہوئی زرعی یونیورسٹی کی جدید چائے سائنس لیبارٹری اور لاہور کے سڑک کنارے روایتی ڈھابے بظاہر دو مختلف دنیائیں ہیں، لیکن ایک پاکستانی نوجوان نے انہیں چائے کی محبت کے رشتے میں جوڑ دیا ہے۔
اٹھائیس سالہ زید محمود کے لیے لاہور کے ڈھابوں پر دوستوں کے ساتھ چائے کی چسکیوں اور گپ شپ کی محفلیں بچپن کی خوبصورت یادوں کا حصہ ہیں۔
سن 2024 میں انہوں نے پاکستان کی ایک فوڈ فیکٹری میں اپنی ملازمت چھوڑ دی تاکہ چین کے معروف چائے پیدا کرنے والے صوبے آنہوئی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔
آج کل زید اپنا زیادہ تر وقت لیبارٹری میں چائے کے مختلف نمونوں کے تجزیے میں گزارتے ہیں۔ وہ اپنی دیرینہ دلچسپی کو پیشہ ورانہ کیریئر کی شکل دے رہے ہیں۔

پاکستانی چائے کلچر سے سائنسی جستجو تک
پنجاب میں پرورش پانے والے زید بچپن ہی سے ڈھابہ کلچر سے مانوس رہے ہیں۔ پاکستان میں سڑک کنارے قائم یہ ڈھابے سماجی زندگی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
زید کہتے ہیں کہ پاکستان کی چائے ثقافت بہت متنوع ہے۔ یہاں چین، بھارت اور سری لنکا کی چائے کی پتیاں استعمال کی جاتی ہیں، جنہیں دودھ، جڑی بوٹیوں، بادام اور مختلف مصالحوں کے ساتھ ملا کر منفرد ذائقے تیار کیے جاتے ہیں۔
دوستوں کے ساتھ چائے پر ہونے والی طویل نشستوں نے ان کے دل میں تجسس پیدا کیا۔ وہ صرف چائے پینے تک محدود نہیں رہنا چاہتے تھے بلکہ اس کی سائنس اور خصوصاً چین کی قدیم چائے روایات کو سمجھنے کے خواہشمند تھے۔
زید کا خواب ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے نئے مشروبات متعارف کرائیں جو چینی چائے کے بہترین ذائقوں کو پاکستانی صارفین تک پہنچا سکیں۔
شاہراہِ ریشم سے آج تک کا ثقافتی تعلق
زید کے مطابق چائے کا تعلق دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانا ہے۔ جدید بحری راستوں سے پہلے قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے اونٹوں کے قافلے چینی چائے موجودہ پاکستان کے علاقوں تک پہنچاتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو لفظ ’’چائے‘‘ اور چینی لفظ ’’چا‘‘ میں بھی واضح مماثلت پائی جاتی ہے، جو دونوں تہذیبوں کے گہرے ثقافتی تعلق کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
چین میں عملی تعلیم اور تحقیق
گزشتہ دو برس کے دوران زید نے خود کو مکمل طور پر چائے کی تعلیم اور تحقیق کے لیے وقف کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین میں چائے سائنس کی تعلیم انتہائی عملی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے مختلف چائے پیدا کرنے والے علاقوں کا دورہ کیا، کسانوں کو اپنے ہاتھوں سے چائے کی پتیاں چنتے دیکھا اور پراسیسنگ کے مراحل کا مشاہدہ کیا۔
زید کہتے ہیں کہ ہر مرحلے میں محنت، لگن اور مہارت نمایاں نظر آتی ہے۔
وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافت ہے۔ ان کے مطابق پہلے وہ صرف ذائقے کو اہمیت دیتے تھے، مگر اب وہ چائے کے پیچھے موجود پیچیدہ سائنس اور اس کی تہذیبی اہمیت کو بھی سمجھنے لگے ہیں۔
چائے صرف مشروب نہیں، ایک طرزِ زندگی
زید کا کہنا ہے کہ چائے کے باغات اور لیبارٹریوں میں وقت گزارنے سے انہوں نے فطرت کے احترام اور چینی چائے ثقافت کی باریکیوں کو سمجھا۔
ان کے بقول چائے زندگی کی رفتار کو دھیمے انداز میں محسوس کرنے، عمل کا احترام کرنے اور دنیا کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کا نام ہے۔
پاکستانی اور چینی چائے ثقافت میں مماثلت
زید کو پاکستانی اور چینی چائے ثقافتوں میں کئی دلچسپ مماثلتیں بھی نظر آئیں۔
وہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں چائے خوشی اور غم ہر موقع پر لوگوں کو اکٹھا کرتی ہے۔ اداسی میں یہ سکون دیتی ہے اور خوشیوں میں تعلقات کو مضبوط بناتی ہے۔
ان کے مطابق چائے کی اصل خوبصورتی اس کے ذریعے ملنے والی تپش، سکون اور قربت میں پوشیدہ ہے۔
مستقبل کا منصوبہ
زید مستقبل میں چین ہی سے ٹی سائنس میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ جدید چائے ٹیکنالوجی پاکستان لے جا کر مقامی ذوق کے مطابق نئی مصنوعات تیار کریں۔
وہ پاکستانی چائے کلچر کی مہمان نوازی اور گرمجوشی کو اپنے چینی دوستوں تک بھی پہنچانا چاہتے ہیں۔
آنہوئی کی چائے صنعت کی عالمی ترقی
زید کی تعلیم ایسے وقت میں جاری ہے جب آنہوئی کی چائے صنعت عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
صوبے نے 2025 میں 28 کروڑ ڈالر مالیت کی چائے برآمد کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ ہے۔
حال ہی میں ہیفے میں منعقدہ 18ویں آنہوئی انٹرنیشنل ٹی انڈسٹری ایکسپو میں 8 ممالک کی 10 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، جس سے چینی چائے کی عالمی مقبولیت مزید واضح ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں
روسی صدر کا دورہ چین، یکطرفہ اقدامات اور تاریخ مسخ کرنے کی مخالفت ضروری:چینی صدر
کانگو میں ایبولا، 131 اموات: کیا عالمی ایمرجنسی قریب ہے؟
دو ثقافتوں کے درمیان چائے کا پل
لاہور کے روایتی ڈھابوں سے آنہوئی کے سرسبز چائے باغات اور ہیفے کی جدید لیبارٹریوں تک زید محمود کا سفر دراصل چائے سے محبت کی کہانی ہے۔
زید کہتے ہیں کہ چینی چائے نفیس اور دھیمی مزاج رکھتی ہے جبکہ پاکستانی چائے کڑک اور بھرپور ہوتی ہے، لیکن دونوں میں ایک بات مشترک ہے، اور وہ ہے لوگوں کو احترام اور عاجزی کے ساتھ ایک جگہ جمع کرنا۔ ان کے مطابق یہی چائے کا اصل جادو ہے۔


