پاک چین تعلقات: جی لین کیمیکل فائبر اور ’ایم پیک‘ کے درمیان بڑھتا تعاون پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے نئی پیش رفت بن گیا
شِنہوا
چھانگ چھون: پاکستانی کمپنی ’ایم پیک‘ کے سربراہ عمران نے کہا ہے کہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے باوجود چینی کمپنیوں پر ان کا اعتماد کبھی کم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق چینی کمپنیاں ہمیشہ فوری ردعمل دیتی ہیں اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق اعلیٰ معیار کی مصنوعات فراہم کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں چین کے جی لین کیمیکل فائبر گروپ اور اس کے پاکستانی شراکت داروں کے درمیان مصنوعی ریشم کے شعبے میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے کاروباری حجم میں مسلسل ترقی دیکھی جا رہی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں سال فروخت 10 ہزار ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔
یہ شراکت داری چین اور پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعتوں کے درمیان صنعتی تعاون کی ایک اہم مثال بن چکی ہے۔

تعاون کا آغاز کیسے ہوا؟
دونوں کمپنیوں کے درمیان یہ سرحد پار تعاون سال 2010 میں شنگھائی یارن ایکسپو سے شروع ہوا۔ جی لین کیمیکل فائبر کی ریون مصنوعات نے اپنے مستحکم معیار اور نرم بناوٹ کے باعث غیر ملکی خریداروں کی توجہ حاصل کی۔
نمائش کے دوران پاکستانی کاروباری شخصیت عمران نے کمپنی حکام سے تفصیلی ملاقات کی اور فوری طور پر تقریباً ایک ہزار ٹن کے ابتدائی معاہدے پر اتفاق کیا۔ یہی معاہدہ بعد میں طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد بنا۔
ابتدائی مرحلے میں دونوں فریقین نے باہمی دوروں، ویڈیو کانفرنسوں اور صارفین سے مسلسل رابطوں کے ذریعے اعتماد کو فروغ دیا۔ وقت کے ساتھ ’ایم پیک‘ پاکستان میں جی لین کیمیکل فائبر کے نمایاں ایجنٹس میں شامل ہو گئی۔
پاکستانی مارکیٹ میں کامیابی
کمپنی کی مصنوعات اپنے معیار اور نرم ساخت کی وجہ سے جلد ہی اعلیٰ معیار کے کپڑوں اور کڑھائی کے دھاگوں میں استعمال ہونے لگیں۔ پاکستانی صارفین نے بھی ان مصنوعات کو بھرپور پذیرائی دی۔
جیسے جیسے تعاون بڑھتا گیا، جی لین کیمیکل فائبر نے پاکستانی مارکیٹ کے لیے مصنوعات کی اقسام میں اضافہ کیا۔ ایجنسی کا حجم ایک ہزار ٹن سے بڑھ کر چار ہزار ٹن تک پہنچ گیا۔
سال 2020 میں دونوں کمپنیوں کی سالانہ فروخت 9 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی جبکہ مارکیٹ شیئر 47 فیصد تک پہنچ گیا، جو ایک اہم ریکارڈ قرار دیا گیا۔
جی لین کیمیکل فائبر گروپ کے سیلز سینٹر کے اسسٹنٹ منیجر سن حہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون گزشتہ 15 برس سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
جدید چینی ٹیکنالوجی کی تعریف
حالیہ برسوں میں پاکستانی کاروباری وفود نے صوبہ جی لین میں کمپنی کی جدید پروڈکشن لائنوں کا دورہ بھی کیا۔ وفود نے تیز رفتار مشینری، خودکار روبوٹک نظام اور جدید پیکیجنگ سہولیات کا مشاہدہ کیا۔
پاکستانی گاہک حنیف کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیوں نے ریون کی پیداوار جیسی روایتی صنعتوں میں نئی روح پھونک دی ہے، جس کے بعد مستقبل کے تعاون کے حوالے سے اعتماد مزید بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
چائے: پاکستانی طالبعلم کا لاہور سے چین تک سفر
بھارتی چیف جسٹس کے بیان کے بعد وائرل ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ مہم کیا ہے؟
پاک چین تعلقات کی مضبوط مثال
یہ سال چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات میں اقتصادی اور صنعتی تعاون ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت، جو ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ سمجھی جاتی ہے، طویل عرصے سے پاک چین اقتصادی تعاون کا اہم حصہ رہی ہے۔
ابتدائی تجارتی روابط سے لے کر پاک چین آزاد تجارتی معاہدے، یعنی فری ٹریڈ ایگریمنٹ، کی اپ گریڈیشن تک دونوں ممالک نے ٹیرف میں کمی اور تجارتی سہولتوں کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن سے دونوں ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعتوں کو قریب آنے میں مدد ملی۔
15 سالہ یہ شراکت داری پاک چین اقتصادی تعلقات کے تسلسل اور مضبوطی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعاون پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو بہتر خام مال، جدید ٹیکنالوجی اور فنی مہارت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔


