May 25, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
گائے کے گوشت سے متعلق اہم تحقیق
Important Research on Beef Consumption

گائے کے گوشت سے متعلق اہم تحقیق

گائے کا گوشت روزانہ کھانے سے بلڈ شوگر یا ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ، کلینیکل تحقیق میں حیران کن نتائج سامنے آئے

ویب نیوش ڈیسک رپورٹ

ذیابیطس ٹائپ 2 اور ہائی بلڈ شوگر ایسے دائمی امراض ہیں جو دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ سرخ گوشت، خصوصاً گائے کے گوشت کا زیادہ استعمال بلڈ شوگر کی سطح بڑھا سکتا ہے اور ذیابیطس کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم، نئی سائنسی تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کیا ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار

یہ تحقیق امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ میں کی گئی۔

اس کلینیکل ٹرائل میں 18 سے 74 سال کی عمر کے 24 افراد شامل تھے۔ یہ تمام افراد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار تھے اور ہائی بلڈ شوگر کا سامنا کر رہے تھے، تاہم مجموعی طور پر صحت مند تھے۔

شرکاء کو 28 دن کے دو مختلف غذائی منصوبوں پر رکھا گیا۔

پہلے مرحلے میں روزانہ دو بار کھانے کے ساتھ گائے کے گوشت یا مرغی کے گوشت کا استعمال کروایا گیا

ہر فرد کو روزانہ تقریباً 100 گرام گوشت دیا گیا

دوسرے مرحلے میں 28 دن تک گوشت مکمل طور پر غذا سے خارج رکھا گیا

اس دوران انسولین کی حساسیت، بلڈ شوگر اور سوزش (ورم) سمیت مختلف میٹابولک عوامل کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ گائے کے گوشت اور مرغی کے گوشت کے اثرات ہائی بلڈ شوگر کے مریضوں پر تقریباً یکساں تھے۔

تحقیق کے نتائج

محققین کے مطابق گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے: بلڈ شوگر کی سطح میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا، انسولین کی حساسیت متاثر نہیں ہوئی سوزش یا ورم میں بھی کوئی واضح فرق سامنے نہیں آیا

تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ گائے کے گوشت اور مرغی کے گوشت کے اثرات ہائی بلڈ شوگر کے مریضوں پر تقریباً یکساں تھے۔

ماہرین کی رائے اور حدود

محققین نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائے کے گوشت کا محدود استعمال میٹابولک صحت پر منفی اثر نہیں ڈالتا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحقیق کا دورانیہ نسبتاً مختصر تھا، اس لیے طویل المدتی اثرات کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔

ذیابیطس کیا ہے؟

ذیابیطس ٹائپ 2 میں جسم یا تو مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔

اگر یہ حالت کنٹرول نہ کی جائے تو دل کی بیماری، بینائی میں کمی، اعصابی مسائل اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا ایران مفاہمتی معاہدہ: اہم نکات سامنے آگئے

مارخور عالمی دن: تحفظِ جنگلی حیات کے لیے عالمی کوششیں تیز

تحقیق کی اشاعت

یہ تحقیق معروف جریدے “کرنٹ ڈیولپمنٹس ان نیوٹریشن” میں شائع ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×