چین اور پاکستان : جدید افزائشی ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق سے لائیو سٹاک شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات تیز
شِنہوا
جینان: چین اور پاکستان کے درمیان مویشی بانی اور حیوانات کی افزائش کے شعبے میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستانی محقق محمد فہیم اختر صوبہ شان ڈونگ کے شہر لیاؤچھینگ میں واقع سیاہ گدھوں کی افزائش کے قومی مرکز میں تحقیق کر رہے ہیں۔
وہ گدھوں کی خوراک، نشوونما اور رہائشی حالات کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور افزائشی اعداد و شمار بھی جمع کرتے ہیں۔

گدھوں کی نسل بہتر بنانے پر تحقیق
یہ مرکز ڈونگ ای ای جیاؤ گروپ کا حصہ ہے، جو گدھے سے حاصل ہونے والی مصنوعات کے لیے معروف ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ محمد فہیم اختر نے 2021 میں لیاؤچھینگ یونیورسٹی کے لیاؤچھینگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ڈونکی ہائی ایفیشنسی بریڈنگ اینڈ ایکولوجیکل فیڈنگ میں شمولیت اختیار کی۔
ان کی تحقیق کا بنیادی مقصد گدھوں کی نسلوں میں بہتری لانا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور تولیدی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
محمد فہیم اختر کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان گدھوں کی صنعت میں ایک دوسرے کی مؤثر مدد کر سکتے ہیں۔ چین کے پاس جدید افزائشی ٹیکنالوجی موجود ہے جبکہ پاکستان میں گدھوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں پاکستان میں گدھوں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور اس شعبے میں ترقی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
پاکستانی لائیو سٹاک شعبے کو جدید بنانے کا عزم
محمد فہیم اختر کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی صنعت طویل عرصے سے روایتی طریقوں پر انحصار کرتی رہی ہے، جس کے باعث پیداوار محدود رہی۔ وہ چینی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے پاکستان کے لائیو سٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔
لیاؤچھینگ یونیورسٹی میں شمولیت کے بعد انہیں چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے غیر ملکی نوجوان ٹیلنٹ پروگرام کے تحت معاونت بھی حاصل ہوئی۔
وہ افزائش سے متعلق اعداد و شمار جمع کرتے ہیں، مختلف کیس اسٹڈیز کا تجزیہ کرتے ہیں اور پاکستانی کسانوں و مقامی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ تحقیقی منصوبوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
سائنسی اور تعلیمی روابط میں اضافہ
لیاؤچھینگ یونیورسٹی کے سکول آف ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر چھائی وین چھیونگ نے کہا کہ محمد فہیم اختر یونیورسٹی اور جنوبی ایشیا کے درمیان سائنسی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی رہنمائی میں مزید پاکستانی محققین اور طلبہ یونیورسٹی کے پروگراموں میں شامل ہوئے ہیں، جبکہ پاکستانی جامعات کے ساتھ مشترکہ تحقیقی پلیٹ فارمز قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
پاکستانی طالب علم کی جدید تعلیم
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ عبداللہ 2024 میں ماسٹرز پروگرام کے لیے لیاؤچھینگ یونیورسٹی آئے، جہاں محمد فہیم اختر ان کے ثانوی نگران ہیں۔
عبداللہ فارم میں رہ کر مختلف تجرباتی گروپس کی نشوونما سے متعلق اعداد و شمار جمع اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ چین میں جدید تکنیکیں سیکھ کر پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں تاکہ ملک کے لائیو سٹاک شعبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
75 سالہ سفارتی تعلقات اور زرعی تعاون
اس سال چین اور پاکستان اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔
گدھوں کی صنعت حیوانات کی افزائش کے شعبے میں دونوں ممالک کے عملی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت بھینسوں کی افزائش اور گائے و بکرے کے گوشت کی تجارت جیسے شعبوں میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، جس سے نسلوں کے تبادلے، ٹیکنالوجی کے اشتراک اور منڈیوں کے انضمام کو فروغ ملا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
جاپان کی آبادی میں تاریخی کمی
لاہور میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری، نظام درہم برہم
مستقبل کے منصوبے
محققین مستقبل میں پاکستانی کسانوں اور مقامی تکنیکی ماہرین کو جدید افزائشی طریقوں کی تربیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ مقامی مہارتوں کی ترقی اور ماحول دوست پیداواری نظام کو فروغ دینے پر بھی کام کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں گدھوں کی ایک مکمل اور پائیدار صنعت قائم کی جا سکے۔
لیاؤچھینگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر وانگ چھانگ فا نے کہا کہ یہ تحقیق پاکستان کو روایتی لائیو سٹاک طریقوں سے سائنسی اور معیاری فارمنگ کی جانب منتقل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی زرعی ٹیکنالوجی دوست ممالک کی معاونت اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو بین الاقوامی تعاون کی ایک کامیاب مثال ہے۔ محمد فہیم اختر نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔ وہ گدھوں کی تحقیق کے شعبے میں اپنا کام جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کا یہ تعاون آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو
