Football World Cup: Japanese Fan’s Unique Journey Takes Social Media by Storm

فٹبال ورلڈکپ: قومی ٹیم کا میچ دیکھنے کیلئے جاپانی نوجوان نے پنسلوانیا سے ڈیلاس تک سائیکل پر سفر کیا

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

فٹبال ورلڈکپ ایسا ایونٹ ہے جس میں اپنی پسندیدہ ٹیم کو لائیو ایکشن میں دیکھنے کیلئے دیوانے مداح ہر حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منفرد واقعہ گزشتہ دنوں امریکا میں دیکھنے میں آیا۔

ڈیلاس میں جاپان اور نیدرلینڈز کے درمیان کھیلے گئے میچ کے موقع پر ایک جاپانی طالبعلم نے اپنی قومی ٹیم کا میچ دیکھنے کیلئے 1200 میل سائیکل پر سفر کیا۔

جاپانی ٹیم کا پہلا میچ ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں تھا اور یوٹو اپنی ٹیم کو میدان میں کھیلتے دیکھنا چاہتے تھے

22 سالہ یوٹو ریاست پنسلوانیا کی پٹسبرگ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔ جاپانی ٹیم کا پہلا میچ ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں تھا اور یوٹو اپنی ٹیم کو میدان میں کھیلتے دیکھنا چاہتے تھے۔

اسی مقصد کیلئے انہوں نے ہوائی سفر یا دیگر ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے بجائے امریکا کی مختلف ریاستوں کے درمیان سائیکل پر سفر کرنے کو ترجیح دی تاکہ یہ مہم ان کیلئے یادگار بن سکے۔

یوٹو نے اس سفر کا آغاز مئی کے وسط میں کیا۔ انہوں نے جاپانی ٹیم کو امریکی سرزمین پر کھیلتے دیکھنے کیلئے ایک سائیکل اور سفر کیلئے ضروری سامان خریدا۔

ان کا کہنا تھا، “ہماری ٹیم اس سال چیمپئن بننے جا رہی ہے”۔

ان کی سائیکل کا ٹائر چھ بار پنکچر بھی ہوا، لیکن انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔

سفر میں مشکلات

پنسلوانیا سے شمالی ٹیکساس تک کئی ہفتوں پر محیط اس سفر کے دوران یوٹو مختلف امریکی ریاستوں سے گزرے۔ تاہم یہ سفر ان کیلئے آسان ثابت نہیں ہوا۔

اس دوران انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی سائیکل کا ٹائر چھ بار پنکچر بھی ہوا، لیکن انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔

ہر شام وہ سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں کو اپنے سفر سے متعلق اپ ڈیٹس دیتے رہے جبکہ نئے علاقوں کی تصاویر اور تجربات بھی شیئر کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیفا ورلڈکپ: امریکا کی پیراگوئے کے خلاف شاندار فتح، 1-4 سے کامیابی

امریکی انٹیلی جنس کا ایران معاہدے پر شکوک، ٹرمپ کو بریفنگ

نوجوانوں کیلئے پیغام

یوٹو کے مطابق مختلف علاقوں میں لوگوں نے ان کی بھرپور میزبانی کی، جس سے انہیں مختلف برادریوں اور ثقافتوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی یہ کہانی نوجوانوں کو اپنے خواب پورے کرنے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے متاثر کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *