دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرے ویرا سی روبن آبزرویٹری میں فعال، آئندہ 10 سال تک ہر رات سینکڑوں تصاویر ریکارڈ کرے گا
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کائنات کی حیرت انگیز تصاویر لینا شروع کر دی ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق، ویرا سی روبن آبزرویٹری نے باضابطہ طور پر کائنات کا اپنا سروے شروع کر دیا ہے۔

یہ دوربین ہر رات 10 سال تک تصاویر ریکارڈ کرے گی
میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ دوربین چِلی کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر نصب ہے۔ یہ آئندہ 10 سال تک ہر رات سینکڑوں تصاویر ریکارڈ کرے گی۔
محققین کو امید ہے کہ روبن آبزرویٹری کے مشاہدات سے کائنات کی بہتر مردم شماری کرنے میں مدد ملے گی۔

سائنسدانوں کے لیے اہم پیش رفت
آبزرویٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز، فل مارشل نے کہا کہ دنیا بھر کے سائنسدان اس ڈیٹا سیٹ پر کام کریں گے اور کائنات کا اس انداز میں مطالعہ کریں گے، جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

پہلی تصاویر میں کیا شامل تھا؟
روبن آبزرویٹری نے گزشتہ سال اپنی پہلی تصاویر جاری کی تھیں، جن میں زمین سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر واقع ٹرائیفڈ نیبولا اور لیگون نیبولا کی رنگین تصاویر بھی شامل تھیں۔
یاد رہے کہ ایک نوری سال تقریباً 6 ٹریلین میل، یعنی 9.7 ٹریلین کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے
فیفا ورلڈ کپ: ارجنٹینا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی
یہ تصاویر سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ اربوں سال کے دوران کہکشائیں کیسے بنتی اور ایک دوسرے سے جڑتی رہیں، اور کائنات کا وجود کیسے عمل میں آیا۔
