The Mystery of Growing Stones: What’s the Truth?

پتھروں کی افزائش کے پیچھے سائنسی حقیقت، بارش، معدنیات اور ہزاروں سال پر محیط قدرتی عمل کیسے ان منفرد پتھروں کو تبدیل کرتا ہے؟

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

زمین کے اندر یہ پتھر آج سے تقریباً 60 لاکھ سال پہلے بننا شروع ہوئے تھے۔ اس دور میں اس علاقے میں آنے والے شدید زلزلوں کے بعد ریت کے ذرات اور معدنی نمکیات، خصوصاً کیلشیم کاربونیٹ، آپس میں جم گئے تھے۔

قدرتی سیمنٹ کا کردار

پانی میں موجود معدنیات نے ریت کے ان ذرات کو اس طرح جوڑا جیسے قدرتی سیمنٹ کام کرتا ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں یہ گول اور منفرد شکل و صورت کے پتھر وجود میں آئے۔

ان پتھروں، جنہیں ٹرووانٹس کہا جاتا ہے، میں کاربونیٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔

پتھر “بڑھتے” کیسے ہیں؟

بارش کا پانی جذب کرنا

ان پتھروں، جنہیں ٹرووانٹس کہا جاتا ہے، میں کاربونیٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جب بھی تیز بارش ہوتی ہے تو یہ پتھر بارش کا پانی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔

کیمیائی عمل

پانی اندر پہنچتے ہی وہاں موجود معدنی نمکیات کے ساتھ کیمیائی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے باعث پتھر کے اندرونی حصے میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔

آہستہ آہستہ پھیلاؤ

اسی اندرونی دباؤ کی وجہ سے پتھر اپنے مرکز سے باہر کی طرف پھیلنے لگتا ہے۔ تاہم یہ عمل انتہائی سست رفتار ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ان پتھروں کو 4 سے 5 سینٹی میٹر بڑا ہونے میں تقریباً ایک ہزار سال لگتے ہیں۔

بارش کے بعد جب پتھر کے کسی ایک حصے میں اندرونی دباؤ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہاں ایک چھوٹا سا گومڑ یا ابھار بن جاتا ہے۔

پتھروں کے “بچے” کیسے بنتے ہیں؟

نئے ابھار بننا

بارش کے بعد جب پتھر کے کسی ایک حصے میں اندرونی دباؤ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہاں ایک چھوٹا سا گومڑ یا ابھار بن جاتا ہے۔

اصل پتھر سے الگ ہونا

وقت گزرنے کے ساتھ یہ ابھار بڑا ہو جاتا ہے۔ پھر شدید بارش یا اضافی وزن کے باعث یہ اصل پتھر سے ٹوٹ کر الگ گر جاتا ہے۔

زمین پر گرنے کے بعد یہ نیا پتھر بھی آزادانہ طور پر اسی طرح بڑھنے لگتا ہے جیسے اس سے پہلے موجود پتھر بڑھتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ اسے پتھروں کی افزائشِ نسل سے تعبیر کرتے ہیں۔

مقامی افراد اور ماہرین کے مطابق یہ پتھر وقت کے ساتھ اپنی جگہ بھی تبدیل کرتے ہیں۔

کیا یہ پتھر چلتے بھی ہیں؟

مقام کی تبدیلی

مقامی افراد اور ماہرین کے مطابق یہ پتھر وقت کے ساتھ اپنی جگہ بھی تبدیل کرتے ہیں۔

سائنسی وضاحت

یہ بھی پڑھیں

چین کا بیلسٹک میزائل تجربہ، امریکا تشویش میں

ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل سمندر میں پھنس گیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی جادوئی وجہ نہیں۔ بارش کے بعد جب پتھر ایک طرف سے زیادہ پھیلتے ہیں یا ان کا وزن بڑھ جاتا ہے تو زمین کی نمی اور ڈھلوان کے باعث وہ آہستہ آہستہ سرکنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پتھر خود چل رہے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *