سانحہ بوہری بازار: بارہ مئی انیس سو پچاسی کا ہولناک دھماکہ جس نے کراچی سمیت پورے ملک میں شہری سیکیورٹی کی سوچ بدل کر رکھ دی

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی : پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور رہی ہے۔ تاہم کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اجتماعی یادداشت سے محو نہیں ہوتے۔
اسی تناظر میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ بوہری بازار بم دھماکہ انیس سو پچاسی 1985 بھی ہے۔
درحقیقت یہ سانحہ بوہری بازار پاکستان کی شہری تاریخ کے ابتدائی بڑے دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ مزید برآں اس نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کی سیکیورٹی حکمتِ عملی کو بھی متاثر کیا اور کئی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی راہ ہموار کی۔
پس منظر اور مقام
بوہری بازار، صدر کے علاقے میں واقع ایک مصروف تجارتی مرکز ہے۔ جہاں کپڑوں، جوتوں اور گھریلو اشیاء کی بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ اسی لیے یہ علاقہ طویل عرصے سے شہری سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
البتہ سن 1980 کی دہائی میں بھی یہ علاقہ شہری زندگی کا اہم مرکز تھا۔ چنانچہ روزانہ ہزاروں افراد یہاں آتے جاتے تھے اور بازار مسلسل گہما گہمی سے بھرپور رہتا تھا۔
واقعے کی تفصیل — 12 مئی 1985
بارہ 12 مئی سن انیس سو پچاسی 1985کی دوپہر تھی اور بازار معمول کے مطابق کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اسی دوران اچانک ایک گاڑی میں نصب طاقتور بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
نتیجتاً دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا ثابت ہوا۔ قریبی عمارتوں کی دیواریں گر گئیں۔ اہم بازاروں میں پولیس نفری بڑھائی گئی،اس سانحے کے بعد کراچی میں پہلی بار بڑے پیمانے پر سیکیورٹی اقدامات کیے گئے۔ چنانچہ ہدرجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ جبکہ متعدد دکانیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
ادھر عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد فضا میں دھواں اور گرد پھیل گئی۔ یوں ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ملبے سے نکالنے میں مصروف ہو گئے۔
جانی ومالی نقصان
اس سانحے میں پچاس 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئےجبکہ ایک سو سے دو سو کے درمیان افراد زخمی ہوئے (مختلف رپورٹس کے مطابق)۔
اس کے علاوہ کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔واضح رہے کہ اس وقت کے لیے یہ نقصان غیر معمولی سمجھا جاتا تھا۔
کیونکہ شہری علاقوں میں اس نوعیت کا حملہ کم دیکھنے میں آیا تھا۔
تحقیقات اور ذمہ داران
بعد ازاں ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوا کہ دھماکہ دراصل ایک کار بم تھا۔ مزید یہ کہ اس میں بڑی مقدار میں بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔ چنانچہ اسے ایک منظم دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا گیا۔
تاہم حملہ آوروں کی شناخت مکمل طور پر واضح نہ ہو سکی۔ اگرچہ مختلف گروہوں پر شبہ کیا گیا، لیکن کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔
اسی بنا پر یہ واقعہ آج بھی ایک حل طلب معمہ سمجھا جاتا ہے۔
اثرات اور نتائج
عوامی مقامات پر چیکنگ کا نظام متعارف کروایا گیا،جبکہ گاڑیوں کی تلاشی معمول بن گئی۔
یوں یہ واقعہ پاکستان میں شہری دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں
پاک چین دفاعی معاہدہ: دشمن کے لیے ایک اور خطرہ بڑھ رہا ہے رہے؟
ایم پاکس کیسز نے سندھ میں تشویش بڑھا دی
سماجی اور نفسیاتی اثرات
اس واقعے کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور لوگوں کا عوامی مقامات پر اعتماد بھی کم ہو گیا۔
حتی کہ بوہری بازار کے تاجروں اور رہائشیوں پر اس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔
ہر سال بارہ 12مئی کو اس سانحہ بوہری بازار کے شہداء کو یاد کیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ واقعہ آج بھی کراچی کی اجتماعی یادداشت کا ایک دردناک باب ہے۔ اور اسی لیے یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہری علاقوں میں امن اور سیکیورٹی قائم رکھنا کس قدر ضروری ہے۔