بجٹ 2026-27: تنخواہ، پنشن میں 7 فیصد اضافہ، ٹیکس ریلیف اور ترقیاتی منصوبے، مگر عوام کو اصل فائدہ کتنا ملے گا؟
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

علاقائی ترقی اور مالیاتی اہداف
بجٹ میں آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالیاتی خسارہ جون 2023 میں 7.8 فیصد سے کم ہو کر رواں مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف آمدنی کے درجوں پر ٹیکس میں ردوبدل کی تجویز دی ہے۔ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ روپے پر 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ روپے پر 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
سپر ٹیکس میں نرمی اور چھوٹے کاروبار کے لیے سہولتیں
وزیر خزانہ نے 15 سے 50 کروڑ روپے آمدنی رکھنے والی چھ سلیبز پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے اور 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد ساز اداروں پر سرچارج برقرار رہے گا۔ اس کے علاوہ سالانہ 20 کروڑ روپے سے کم فروخت والے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت وہ اپنی سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے اور انہیں معمول کے آڈٹ اور پی او ایس مشین کی شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
جائیداد، برآمدات اور بیرون ملک اثاثوں سے متعلق تجاویز
بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی جبکہ برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم از کم ٹیکس کی مجموعی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے بیرون ملک استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد مقرر کرنے اور غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
گاڑیوں پر ٹیکس اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی
حکومت نے درآمدی گاڑیوں، 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی کی ایس یو ویز اور 3 ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد یا بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، تاہم الیکٹرک موٹرسائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ مراعات برقرار رکھی جائیں گی۔
ترقیاتی منصوبوں اور انفراسٹرکچر پر توجہ
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اہم منصوبوں میں این-25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے، سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے اور ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
توانائی اور آبی وسائل کے منصوبے
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 8 پن بجلی منصوبوں کے لیے 13 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے 43 آبی منصوبوں کے لیے 103 ارب 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ان میں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے، داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 15 ارب روپے اور کراچی واٹر سپلائی منصوبہ کے فور کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں۔
ہاؤسنگ، صنعت، صحت اور تعلیم کے شعبے
بجٹ میں شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے لیے 54 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ایک لاکھ 50 ہزار کم لاگت رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ صنعتی ترقی کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے، صحت کے منصوبوں کے لیے 25 ارب 10 کروڑ روپے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی صحت اور آئی ٹی شعبے کے لیے مراعات
حکومت نے سینیٹری پیڈز، خواتین کی صحت سے متعلق مصنوعات اور مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کی سہولت مزید تین سال تک برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پانی بحران: سندھ میں 41 فیصد شارٹ فال، کیا فصلیں خطرے میں؟
بل گیٹس آخر ایپسٹین سے کیوں ملتے رہے؟
بجٹ کے اہم مالیاتی اعداد و شمار
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی نان ٹیکس آمدن کا ہدف 5336 ارب روپے جبکہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11751 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔ مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں 8054 ارب روپے سود کی ادائیگی، 1000 ارب روپے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)، 1169 ارب روپے پنشن، 3000 ارب روپے دفاع، 1091 ارب روپے سبسڈیز اور 430 ارب روپے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050 ارب روپے رکھا گیا ہے۔