کشتی حادثہ کے بعد ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں، پاکستان نیوی اور سندھ پولیس کی بروقت کارروائی، بڑی مصیبت ٹل گئی

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی کے کھلے سمندر میں سیر و تفریح کے لیے آنے والے چار غیر ملکی مہمان کشتی حادثے کا شکار ہو گئے۔
تیز سمندری لہروں کے باعث ان کی کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں چاروں افراد سمندر میں ڈوبنے لگے۔
تین افراد نے تیر کر جان بچائی
حادثے کے دوران تین افراد نے تیر کر اپنی جان بچائی اور بحفاظت کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ ایک شخص کھلے سمندر کی خطرناک لہروں میں پھنس گیا۔
اسی دوران ابراہیم حیدری کے بہادر ماہی گیروں نے فوری جرات اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی ڈھونڈا کشتی کے ذریعے متاثرہ شخص کو بحفاظت سمندر سے نکال لیا۔
امدادی اداروں کی فوری کارروائی
اطلاع ملتے ہی عدیل جاموٹ نے فوری طور پر مختلف اداروں سے رابطہ کیا۔
جس کے بعد پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، پاکستان نیوی اور سندھ پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
تمام مہمانوں کو بحفاظت ریسکیو کرنے کے بعد طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں چیک اپ مکمل ہونے کے بعد ان کی مکمل مہمان نوازی بھی کی گئی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ مہمان بروقت امداد، محبت اور تعاون پر بے حد خوش ہیں اور پاکستان کے عوام و اداروں کے شکر گزار بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
پنکی کے نیٹ ورک میں افریقا کے لوگ بھی ہیں
انسان دوستی کی مثال
مقامی ماہی گیروں، خصوصاً جاموٹ خاندان سے تعلق رکھنے والے عدیل جاموٹ، پاکستان نیوی، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور سندھ پولیس کی فوری اور مشترکہ کارروائی نے بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا۔ اس کامیاب ریسکیو آپریشن نے نہ صرف انسان دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت اور ذمہ دار تشخص بھی اجاگر کیا۔