سیلاب اور گلوف کا خطرہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی جانب بڑھ رہا ہے، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے، شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے باضابطہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ البتہ صورتحال کو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

موسمی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) کے خدشے کے پیش نظر یہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسی دوران، پیش گوئی کی گئی ہے کہ 3 مئی 2026 سے ایک معتدل مغربی لہر پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگی۔
نتیجتاً، اس دوران درج ذیل موسمی حالات متوقع ہیں، تیز بارشیں، آندھی اور گرج چمک، بعض مقامات پر موسلا دھار بارش

سیلاب: خطرناک علاقے کون سے ہیں؟
دوسری جانب، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اچانک اضافے کے بعد یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ، ملبے کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
زیادہ خطرے والے علاقے درج ذیل ہیں:ہوپر، غلکین، ششپر، یاسین، پھنڈر، بڈسوات، لوئر ہنزہ، نگر، گھانچے، دیر اور دیر بالا۔
حکومتی ہدایات
مزید برآں، حکام نے برفانی وادیوں میں رہنے والے افراد کو سخت احتیاط کی ہدایت کی ہے۔
خاص طور پر: ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کریں
اگر پانی کے بہاؤ یا رنگ میں تبدیلی نظر آئے تو فوری احتیاط کریں
اسی طرح، غیر معمولی آوازوں کی صورت میں محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں
مزید احتیاطی اقداماتاسی تناظر میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ: مویشی اور ضروری اشیا کو بلند مقامات پر منتقل کیا جائے
کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کمیٹیوں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے
نگرانی کا نظام
دوسری جانب، محکمہ موسمیات کے مطابق، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے چوبیس گھنٹے الرٹ ہیں۔ مزید یہ کہ دور دراز علاقوں میں تکنیکی فوکل پرسنز کے ذریعے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
مہنگے پٹرول کو بچانے کا آسان طریقہ
لمبی عمر اور اچھی صحت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
لہٰذا، محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔ اسی کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور پیشگی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔


