ہنٹا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اسپین کے جزیرے ٹینریف میں طبی نگرانی سخت، مسافروں کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کا عمل اور مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اسپین کے جزیرے ٹینریف میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ سے متاثرہ کروز جہاز سے مسافروں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اسپین کی وزارتِ صحت کے مطابق مختلف ممالک کے تعاون سے واپسی کا یہ عمل سخت طبی نگرانی میں جاری ہے۔
کروز جہاز “ایم وی ہونڈیئس” اتوار کی صبح ٹینریف پہنچا۔ جہاز میں 147 افراد سوار تھے۔ مسافروں کو بندرگاہِ گرانادیلا کے قریب لنگر انداز جہاز سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے جزیرے تک منتقل کیا گیا۔
جزیرے پر پہنچنے کے بعد مسافروں کو بسوں کے ذریعے ہوائی اڈے منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ان کے آبائی ممالک روانہ کیا جائے گا۔

طبی معائنہ اور حفاظتی اقدامات
مسافروں کے انخلا سے قبل طبی ٹیمیں جہاز پر پہنچیں۔ عملے اور مسافروں کے مختلف طبی ٹیسٹ کیے گئے۔ اسپین کی وزیرِ صحت مونیکا گارشیا نے صبح 8 بجے سے پہلے اس کی تصدیق کی۔
گزشتہ ماہ ارجنٹینا سے روانگی کے بعد اب تک تین افراد کی ہلاکتوں کو ہنٹا وائرس سے جوڑا گیا ہے۔ یہ ایک نایاب بیماری ہے، جو عموماً متاثرہ چوہوں کے پیشاب یا فضلے سے پھیلتی ہے۔ کئی افراد کو علاج کی غرض سے پہلے ہی جہاز سے منتقل کیا جا چکا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق جہاز کو حفاظتی فاصلے پر لنگر انداز کیا گیا۔ مسافروں کو قومیت کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ 10 افراد پر مشتمل کشتیوں میں ساحل تک لایا گیا۔ یہ تفصیلات ٹور آپریٹر “اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز” نے جاری کیں۔

مختلف ممالک کی واپسی کارروائیاں
امریکا، جرمنی، فرانس، بیلجیم، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک اپنے شہریوں کو واپس لے جانے کے لیے خصوصی طیارے بھیج رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق مسافروں کے انخلا کا شیڈول ان پروازوں کی آمد کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ سامان بعد میں واپس کیا جائے گا۔
امریکی ادارہ برائے انسدادِ امراض “سی ڈی سی” کے ایک اہلکار کے مطابق 17 امریکی مسافروں کو یونیورسٹی آف نیبراسکا میڈیکل سینٹر منتقل کیا جائے گا۔ ان میں کسی بھی فرد میں بیماری کی علامات موجود نہیں ہیں۔
یہ مسافر ابتدائی طبی معائنے کے بعد 42 روز تک گھریلو نگرانی میں رہیں گے۔ حکام کے مطابق ان کی روزانہ کی بنیاد پر صحت کی نگرانی کی جائے گی۔

ہنٹا وائرس: اسپین میں سخت نگرانی
ہسپانوی حکام کے مطابق 14 ہسپانوی مسافر سب سے پہلے جہاز سے اتریں گے۔ وہ “ایف ایف پی ٹو” ماسک استعمال کریں گے۔ بسوں اور لاجسٹک عملے کو بھی یہی ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان مسافروں کو ایک فوجی اسپتال منتقل کیا جائے گا، جہاں انہیں الگ الگ کمروں میں رکھا جائے گا۔ کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسپین کی وزارتِ صحت کے مطابق پہنچنے پر ان کا “پی سی آر” ٹیسٹ کیا جائے گا، جبکہ سات روز بعد دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے گا۔
وزیرِ صحت مونیکا گارشیا کے مطابق جہاز پر موجود دو ڈچ شہری دوسرے مرحلے میں جہاز سے اتریں گے۔
فالج سے پہلے جسم دیتا ہے یہ 3 خطرناک اشارے
ارجنٹینا میں ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھ گیا، اموات 32 ہوگئیں
کینری جزائر میں تشویش
جہاز کی آمد پر کینری جزائر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ علاقے کے سربراہ فرنانڈو کلاویخو پہلے ہی جہاز کے وہاں لنگر انداز ہونے کی مخالفت کر چکے تھے۔
ٹینریف کے بندرگاہی کارکنوں نے بھی احتجاج کیا۔ انہوں نے ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات کی کمی پر تحفظات ظاہر کیے۔
جہاز اور اس کا عملہ بعد ازاں نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم روانہ ہوگا۔ وہاں عملہ جہاز سے اترے گا اور جہاز کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔
عالمی ادارۂ صحت “ڈبلیو ایچ او” کے مطابق ہنٹا وائرس کے اس پھیلاؤ کی اطلاع 2 مئی کو موصول ہوئی تھی۔ ادارے نے فی الحال عام عوام کے لیے خطرے کو کم قرار دیا ہے۔


