ہیلتھ رپورٹرز ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ کا متفقہ انتخاب، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور ہیلتھ جرنلزم کے فروغ کا عزم

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی: ہیلتھ رپورٹرز ایسوسی ایشن کی پہلی کابینہ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر تمام عہدیداران کو متفقہ طور پر بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔
بعد ازاں نئی کابینہ برائے سال 2026-27 کا اعلان پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہاؤس کراچی میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس موقع پر الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے ہیلتھ رپورٹرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

عہدیداران کا انتخاب
مزید برآں اجلاس میں مشاورت کے بعد تمام عہدیداران کا متفقہ اور بلا مقابلہ انتخاب کیا گیا۔
اعلان کے مطابق:اختر شاہین رند صدر منتخب ہوئے۔ صفدر بٹ سینئر نائب صدر مقرر ہوئے۔ امداد سومرو نائب صدر منتخب ہوئے۔
عمران پیرزادہ جنرل سیکریٹری بنے۔ احسن چانڈیو ڈپٹی سیکریٹری منتخب ہوئے۔ شاہین صدیقی جوائنٹ سیکریٹری مقرر ہوئے۔
اسی طرح: ابراہیم رند فنانس سیکریٹری بنے ۔کنول جتوئی انفارمیشن سیکریٹری مقرر ہوئیں۔ نائلہ نظام ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری منتخب ہوئیں۔
جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین میں عابد خان، وسیم ہاشمی، راجہ ارشاد علی اسدی، ماریہ اسماعیل میمن، شاہد میرانی، رضوان جلالی اور پون کمار شامل ہیں۔

تقریب اور اہم شخصیات کی شرکت
اس دوران صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی ڈاکٹر اسماعیل میمن نے ہیلتھ رپورٹرز کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہاؤس میں خوش آمدید کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے نئی کابینہ کو بالمشافہ مبارکباد بھی دی۔
اجلاس میں کابینہ اراکین کے علاوہ سانول شیخ، لیاقت جتوئی، وحید میمن اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔
نومنتخب صدر کا خطاب
دریں اثنا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب صدر اختر شاہین رند نے کہا کہ ہیلتھ رپورٹرز ایسوسی ایشن کا قیام صحافیوں کے مسائل، پیشہ ورانہ مشکلات اور حقوق کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر عمل میں لایا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ صحافی معاشرے میں شعور اور آگاہی پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے مسائل کا حل اور انہیں مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں
تامل ناڈو انتخابات میں نیا انقلاب
براعظموں کی حرکت کا انکشاف کرنے والا نیا ڈیجیٹل ٹول
مستقبل کا لائحہ عمل
مزید برآں اختر شاہین رند نے کہا کہ نئی کابینہ ہیلتھ جرنلزم کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے گی۔
علاوہ ازیں تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا اور مستند طبی معلومات عوام تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔ آخرکار ان کا کہنا تھا کہ مثبت اور ذمہ دارانہ صحافت ہی معاشرے میں بہتری لا سکتی ہے۔
بالآخر تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔


