سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے پن بجلی منصوبوں پر پاکستان کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے اہم فیصلہ پاکستان کے حق
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
پاکستان نے دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت میں ایک اہم قانونی جنگ جیت لی۔ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت آنے والے دریاؤں پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے تعین کے طریقہ کار پر پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
کیس کی حساس نوعیت کے باعث اگرچہ ثالثی عدالت کا یہ فیصلہ ابھی باضابطہ طور پر شائع نہیں کیا گیا، تاہم اسلام آباد میں اسے ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے ثالثی عدالت کے سامنے بھارت کے اس طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ یہ طریقہ کار بھارت کو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت مقررہ حد سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
وزارتِ پانی و بجلی کے ایڈیشنل سیکرٹری اور ترجمان سید مہر علی شاہ کے مطابق ٹریبونل نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کر لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر ایسے اصولوں کی بنیاد پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا تعین نہیں کر سکتا جنہیں پاکستان نے ’’مصنوعی‘‘ قرار دیا تھا۔
رتلے اور کشن گنگا منصوبوں پر فیصلہ
عدالت میں بھارت کے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیزائن سے متعلق تفصیلی دلائل دیئے گئے۔ عدالت نے اس کیس کا فیصلہ 15 مئی کو جاری کیا۔
پاکستان کے مطابق یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی پانی کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر واضح حدود موجود ہیں۔ بھارت یہ ثابت نہیں کر سکا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ معاہدے کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں
خاتون کے ہاں 5 دن میں 4 بچوں کی پیدائش
شرح پیدائش: تیسرے بچے پر 30 ہزار، چوتھے پر 40 ہزار انعام کا اعلان
پاکستانی مؤقف مزید مضبوط
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بھارت پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے جائزے کے لیے پاکستان کو مکمل معلومات فراہم کرے۔ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کو سائنسی، آبی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مزید مضبوط کر دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر عمل جاری رکھنے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقے اسے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔