پاکستان میں پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور کاربن اخراج میں کمی کی نئی کوششیں
ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل

کراچی کی مصروف سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ اسی تناظر میں فضا میں دھواں بھی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے ۔ نتیجتاً، درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے ۔
لہٰذا یہ مسئلہ صرف ٹریفک کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران بھی ہے ۔ اسی کے ساتھ پاکستان کا ٹرانسپورٹ نظام اس بحران کے مرکز میں آ چکا ہے ۔ اسی لئے پاکستان میں پائیدار ٹرانسپورٹ کا ہوان ضروری ہوگیا ہے ۔

آلودگی میں اضافہ اور ایندھن پر انحصار
پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح پیٹرول اور ڈیزل پر انحصار بھی بڑھ گیا ہے ۔ نتیجتاً، فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ ہوا ہے ۔ مزید یہ کہ کاربن اخراج کی سطح بھی بلند ہو چکی ہے ۔ اسی وجہ سے ماحولیاتی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
عالمی اور ملکی صورتحال
عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ شعبہ تقریباً 25 فیصد کاربن اخراج کا ذمہ دار ہے ۔ جبکہ پاکستان میں یہ شرح 21 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے ۔
اسی طرح ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے ۔ نتیجتاً، فوری اقدامات کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔

ماہرین کی وارننگ
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان میں پائیدار ٹرانسپورٹ کے لئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے ۔ مزید برآں، شہری علاقوں میں زندگی ناقابلِ برداشت ہونے کا خدشہ ہے ۔
اسی لیے ماحولیاتی بحران کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ لہٰذا، دیر کرنا مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔
انڈس کنسورشیم کا پالیسی ڈائیلاگ
اسی تناظر میں انڈس کنسورشیم نے ایک اہم پالیسی ڈائیلاگ منعقد کیا ۔ اس کا عنوان تھا: “پہیوں کو سبز کرنے: پاکستان کی صاف، جامع اور پائیدار نقل و حرکت کی طرف منتقلی”۔
واضح رہے کہ انڈس کنسورشیم 64 سول سوسائٹی تنظیموں کی نمائندگی کرتا ہے ۔ مزید برآں یہ ادارہ انسانی حقوق، پانی کی حکمرانی اور موسمیاتی تبدیلی پر کام کر رہا ہے ۔ نتیجتاً، یہ پلیٹ فارم قومی سطح پر پائیدار ٹرانسپورٹ کے مکالمے کو فروغ دے رہا ہے ۔

بڑھتا ہوا خطرہ: ٹرانسپورٹ اور آلودگی
پاکستان میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے ۔ اسی طرح ایندھن پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے ۔
نتیجتاً، فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے ۔ مزید یہ کہ شہری صحت بھی متاثر ہو رہی ہے ۔
اسی کے ساتھ عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ 25 فیصد اخراج کا ذمہ دار ہے ۔ جبکہ پاکستان میں یہ شرح 21 فیصد سے زیادہ ہے ۔
حل کی سمت: الیکٹرک گاڑیاں
حکومتِ پاکستان نے نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی 2025-2030 متعارف کرائی ہے ۔ اس کے تحت 2030 تک 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔
مزید برآں، اس پالیسی سے اہم تبدیلی کی توقع ہے ۔ اسی طرح یہ ایندھن پر انحصار کم کر سکتی ہے ۔ نتیجتاً، کاربن اخراج میں نمایاں کمی ممکن ہے ۔

ممکنہ فوائد
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی کئی فوائد فراہم کر سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر 4.5 ملین ٹن کاربن اخراج میں کمی ممکن ہے ۔
اسی طرح ایک ارب ڈالر تک ایندھن کی بچت بھی ہو سکتی ہے ۔ لہٰذا، یہ اقدام معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہے ۔
زمینی چیلنجز
تاہم، عملی سطح پر کئی رکاوٹیں موجود ہیں ۔ سب سے پہلے، گرین فنانس تک رسائی محدود ہے ۔ اسی کے ساتھ الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے ۔
مزید یہ کہ ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی کمزور ہے ۔ نتیجتاً، پالیسی پر مکمل عملدرآمد ایک چیلنج ہے ۔

مکالمے کی اہمیت
اسی تناظر میں پالیسی ڈائیلاگ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے ۔ نتیجتاً، حکومت، صنعت اور مالیاتی ادارے مل کر کام کر سکتے ہیں ۔
اسی طرح سول سوسائٹی بھی اس عمل کا حصہ بنتی ہے ۔ لہٰذا، مشترکہ حکمت عملی بنانا ممکن ہو جاتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کب ہوگی؟
ریَپ سے سیاست تک کے نئے سیاسی طوفان میں کیا پرانے چہرے بہہ جائیں گے؟
رجب بٹ کا یوٹیوب چینل بند ہونے والا ہے؟
آگے کا راستہ
ماہرین کے مطابق پاکستان میں پائیدار ٹرانسپورٹ کے لئے پاکستان کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے ۔ سب سے پہلے الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ اسی طرح چارجنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی اہم ہے ۔
مزید برآں، گرین فنانس کو آسان بنانا ہوگا ۔ اسی کے ساتھ عوامی شعور میں اضافہ بھی ضروری ہے ۔ نتیجتاً، بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔
نتیجہ کیا نکلا
آخر میں، پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے ۔ ایک طرف آلودگی اور دوسری طرف اُمید موجود ہے ۔
اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، تاہم بہتری ممکن ہے۔ لہٰذا، مشترکہ کوششوں سے پائیدار مستقبل بنایا جا سکتا ہے ۔

