پلاسٹک فریزنگ: ماہرین نے مائیکرو پلاسٹکس کے خدشات کے باعث شیشے اور اسٹیل کے برتنوں کو محفوظ اور بہتر قرار دے دیا
ماہرینِ صحت نے بچا ہوا کھانا پلاسٹک کے ڈبوں میں فریز کرنے سے متعلق احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔
ہیلتھ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچا ہوا کھانا پلاسٹک کے ڈبوں میں فریز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
صارفین کے حقوق کے ادارے کے مطابق فریزر میں کھانا محفوظ کرنے کے لیے شیشے یا اسٹیل کے برتن زیادہ محفوظ اور بہتر انتخاب ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ٹھنڈا ہونے یا بار بار گرم کرنے کے عمل سے پلاسٹک کمزور ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران ننھے پلاسٹک ذرات یعنی مائیکرو پلاسٹکس خارج ہو سکتے ہیں۔
یہ ذرات خوراک میں شامل ہو کر انسانی جسم میں داخل ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تاہم ان کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سائنسدان مزید تحقیق کر رہے ہیں۔
یہ بھ پڑھیں
ہنٹا وائرس: کیا سمپسنز نے برسوں پہلے خطرہ بھانپ لیا تھا؟
چین نے امریکی طیاروں کی بڑی خریداری کی تصدیق کر دی
مزید مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ ذرات انسانی خون، پھیپھڑوں، نال اور ماں کے دودھ میں بھی پائے جا چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نینو پلاسٹکس دماغ کے حفاظتی نظام تک بھی پہنچ سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں اعصابی بیماریوں کے خطرات بڑھنے کا خدشہ ہے۔


