May 9, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
مہمان پرندے زمین کے ماحولیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی
“Migratory Birds: A Warning Bell for Earth’s Ecosystem”

مہمان پرندے زمین کے ماحولیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی

مہمان پرندے:عالمی تنظیم برڈ لائف انٹرنیشنل کا فلائی ویز کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کے لیے عالمی اپیل

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

نومئی 2026 کو عالمی مہمان پرندوں کے دن سے قبل معروف ماحولیاتی تنظیم برڈ لائف انٹرنیشنل نے مہاجر پرندوں کی اقسام پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے ان پرندوں کی زمین کے ماحولیاتی نظام میں اہمیت پر زور دیا ہے۔

برڈ لائف کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد پرندوں کی اقسام میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

پرندوں کی عالمی کمی تشویشناک

برڈ لائف کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد پرندوں کی اقسام میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ مہاجر پرندے ماحول کے توازن کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ان کی کمی سے پانی کے معیار پر اثر پڑتا ہے۔ غذائی تحفظ کمزور ہوتا ہے۔ سیلاب سے بچاؤ کا قدرتی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔

تنظیم کے مطابق مہاجر پرندے ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے ہیں۔

ماحولیاتی نظام میں کردار

تنظیم کے مطابق مہمان پرندے ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے ہیں۔ اس دوران وہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہیں۔

یہ پرندے سمندروں کے پار غذائی اجزا منتقل کرتے ہیں۔ پودوں کی پولینیشن کرتے ہیں۔ بیجوں کی تقسیم میں مدد دیتے ہیں۔ فصلوں کی پیداوار بہتر بناتے ہیں۔ بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی کم کرتے ہیں۔

بیان میں پرندوں کے قدرتی ہجرتی راستوں کو “عالمی فلائی ویز” کہا گیا ہے۔

آسمان کی سڑکیں اور فلائی ویز

بیان میں پرندوں کے قدرتی ہجرتی راستوں کو “عالمی فلائی ویز” کہا گیا ہے۔

یہ راستے پرندوں کو افزائش نسل، خوراک اور موسمی پناہ گاہوں تک لے جاتے ہیں۔ دنیا میں چار بڑے زمینی فلائی ویز ہیں۔ ان میں افریقی-یوریشیائی، مشرقی ایشیائی-آسٹریلوی، امریکی اور وسطی ایشیائی فلائی ویز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ چھ سمندری فلائی ویز بھی موجود ہیں۔ یہ راستے ہزاروں کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف خطوں کو جوڑتے ہیں۔

عالمی مہاجر پرندوں کا دن انہی فلائی ویز کے مطابق منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہر سال مئی اور اکتوبر میں آتا ہے۔

عالمی دن کی اہمیت

عالمی مہمان پرندوں کا دن انہی فلائی ویز کے مطابق منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہر سال مئی اور اکتوبر میں آتا ہے۔ مقصد دونوں نصف کرہ میں پرندوں کی ہجرت کے عروج کو اجاگر کرنا ہے۔

مئی میں افریقی-یوریشیائی فلائی وے کے پرندے افریقہ سے شمال کی طرف سفر کرتے ہیں۔

خطرات میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق اگر فلائی وے کا کوئی حصہ متاثر ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ویٹ لینڈز کا خشک ہونا یا ساحلی علاقوں کی تباہی بڑا خطرہ ہے۔

ایسے حالات میں بعض پرجاتیاں ختم بھی ہو سکتی ہیں۔ حالیہ مثال میں “سلینڈر بلڈ کرلیو” کی معدومیت شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی پولیو کے خاتمے کے قریب، افواہیں اب بھی بڑا چیلنج

ایچ آئی وی: پاکستان میں صرف 25 فیصد مریض بیماری سے آگاہ

عالمی تحفظ کی کوششیں

اس سال مہمان پرندوں کے تحفظ کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ستمبر میں نیروبی میں گلوبل فلائی ویز سمٹ منعقد ہو رہی ہے۔

نیچر کینیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پال ماتیکو نے کہا کہ افریقہ ان عالمی ہجرتی راستوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

برڈ لائف انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو مارٹن ہارپر نے کہا کہ ہجرت فطرت کا حیرت انگیز عمل ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلائی ویز کا تحفظ نہ صرف پرندوں بلکہ انسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس سے صحت مند ویٹ لینڈز، بہتر غذائی تحفظ اور موسمی تبدیلیوں کے خلاف مضبوط نظام حاصل ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×