براعظموں کی حرکت سے نیا ڈیجیٹل ٹول سامنے آگیا، زمین کے کروڑوں سال پرانے نقشے اور پینجیا دور کی جغرافیائی تبدیلیاں واضح ہوگئیں۔
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
سائنس دانوں نے ایک نیا اور دلچسپ ڈیجیٹل ٹول پیش کیا ہے۔ یہ ٹول زمین کے براعظموں کی کروڑوں سال پرانی حرکت کو واضح طور پر دکھاتا ہے۔ ٹول یہ بھی بتاتا ہے کہ موجودہ شہر ماضی میں کس مقام پر تھے۔
یہ نظام نیدرلینڈز کی اوتریخت یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اسے خاص طور پر اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ عام افراد اور محققین زمین کی قدیم تاریخ کو بہتر سمجھ سکیں۔
پروفیسر ڈووے فان ہنسبرگن کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے ایک آن لائن ٹول بنایا ہے۔ ٹول کو کسی بھی جگہ کی تقریباً 32 کروڑ سال پہلے کی پوزیشن دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب زمین ایک ہی بڑے براعظم ’’ پینجیا ‘‘ کی شکل میں موجود تھی۔

زمین کی مسلسل حرکت
سائنس دانوں کے مطابق، زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں۔ نتیجتاً براعظم وقت کے ساتھ اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف علاقے مختلف ادوار میں مختلف موسمی حالات کا حصہ بنتے رہے ہیں۔
قدیم موسم اور ماحول کی مثال
مثال کے طور پر، تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے نیدرلینڈز کا خطہ ایک گرم اور مرطوب ماحول میں موجود تھا۔ یہ صورتحال موجودہ خلیج فارس سے ملتی جلتی تھی۔
اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ زمین کے خطوں کے موسم اور ماحول میں وقت کے ساتھ بڑی تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔
پیلیوجیوگرافی ماڈل
اوتریخت یونیورسٹی کے مطابق، یہ منصوبہ ایک پیلیوجیوگرافی ماڈل پر مبنی ہے۔ اس ماڈل میں قدیم براعظموں اور پہاڑی سلسلوں کی تفصیلی تشکیل نو کی گئی ہے۔
سائنسی شواہد کا استعمال
اس ماڈل کی تیاری کے لیے سائنس دانوں نے قدیم چٹانوں میں موجود مقناطیسی شواہد کا تجزیہ کیا۔ یہ شواہد قدرتی کمپاس کی طرح کام کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ چٹانیں زمین کے مقناطیسی قطبوں کے حوالے سے کہاں بنی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں
صومالیہ میں پاکستانی مغویوں کی حالت تشویشناک
ایران کے خلاف بڑی کارروائی کے لیے امریکا تیار: جنرل ڈین کین
تحقیق کی اہمیت
ماہرین کے مطابق، یہ تحقیق صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں۔ بلکہ اس کے عملی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو مستقبل کی سائنسی تحقیق میں مددگار ثابت ہوں گے۔


