سمندری جاسوسی کے لیے “جاسوس کچھوے” اور “جاسوس مچھلیاں” استعمال ہو رہی ہیں، غیر ملکی ایجنسیوں پر چین کا دعویٰ۔
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی جاسوسی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک کے سمندری علاقوں کی نگرانی کے لیے جدید اور غیر روایتی طریقے استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں سینسرز سے لیس “جاسوس کچھوؤں” اور “جاسوس مچھلیوں” کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
وزارت نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جمعے کو جاری بیان میں خبردار کیا کہ چین کے گرد سمندروں میں ایک “غیر مرئی خفیہ جنگ” جاری ہے۔ بیان کے مطابق غیر ملکی ادارے جدید جاسوسی آلات کے ذریعے حساس بحری معلومات حاصل کر رہے ہیں تاکہ زیرِ آب نقشے تیار کیے جا سکیں، جو چین کی قومی سلامتی کے لیے “سنگین خطرہ” بن سکتے ہیں۔

سینسرز سے لیس سمندری جانوروں کا دعویٰ
وزارت کا کہنا ہے کہ بعض بڑے سمندری جانور، جن میں کچھوے اور مچھلیاں شامل ہیں، چینی سمندری حدود میں سینسرز سے لیس حالت میں پائے گئے۔ بیان کے مطابق یہ جانور پانی کے درجہ حرارت، نمکیات کی سطح اور سمندری دھاروں سے متعلق حساس معلومات حقیقی وقت میں جمع کرتے ہیں اور سیٹلائٹ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرتے ہیں۔
تاہم، چینی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ جانور کہاں دریافت ہوئے یا انہیں کس ملک یا ادارے نے ان آلات سے لیس کیا۔

ماضی میں بھی ایسے دعوے سامنے آ چکے ہیں
سمندری جانوروں کو جاسوسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ 2023 میں برطانوی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے یوکرین کے مقبوضہ علاقے کریمیا میں واقع سواستوپول کے بحری اڈے کی سکیورٹی سخت کرنے کے لیے تربیت یافتہ ڈولفنز تعینات کی تھیں۔
برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے مطابق یہ بوتل نما ناک والی ڈولفنز دشمن غوطہ خوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔
جدید جاسوسی آلات کا انکشاف
چینی وزارتِ ریاستی سلامتی نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے ایسے تیرتے ہوئے خودکار آلات (بُوائز) بھی ملے ہیں، جو ایک غیر ملکی بحری تحقیقی ادارے کی جانب سے نصب کیے گئے تھے۔ ان میں موسمیاتی سینسرز نصب تھے، جو چینی آبدوزوں کے صوتی نشانات کی حقیقی وقت میں نگرانی کی صلاحیت رکھتے تھے۔
بیان میں “ویو گلائیڈر” نامی ایک نئے آلے کا بھی ذکر کیا گیا، جو سمندری لہروں اور شمسی توانائی سے چلتا ہے۔ وزارت کے مطابق غیر ملکی عناصر اس ٹیکنالوجی کو فوجی نوعیت کے بحری ماحولیاتی اعداد و شمار اور جہازوں کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
حساس سمندری علاقوں میں بڑھتی کشیدگی
چین ماضی میں بھی بحیرہ جنوبی چین، مشرقی بحیرہ چین اور آبنائے تائیوان میں جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق دعوے کرتا رہا ہے۔ یہ علاقے دنیا کے حساس ترین اور متنازع سمندری خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔
2024 میں چین نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سمندر کی تہہ میں نصب ایسے “سمندری رہنما آلات” (لائٹ ہاؤسز) کی نشاندہی کی ہے، جو غیر ملکی آبدوزوں کی رہنمائی اور ممکنہ جنگی تیاریوں میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کاکروچ جنتا پارٹی: نوجوان مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر کیوں نکل آئے؟
کے فور منصوبہ: 10 ارب منظور، پانی منصوبے میں پیش رفت
جاسوسی آلات کی نشاندہی پر انعام
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے اپنے سمندری علاقوں میں جاسوسی آلات کی نشاندہی کرنے والے ماہی گیروں کے لیے 50 ہزار سے 5 لاکھ یوآن (تقریباً 55 لاکھ سے 5 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی روپے کے مساوی) تک انعامات مقرر کر رکھے ہیں۔