اوپینیکن جھیل میں سو سے زائد مردہ کچھوؤں کی دریافت، ممکنہ شکاری حملے اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی تحقیق جاری ہے
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اوپینیکن جھیل کے علاقے میں سو 100 سے زائد شمالی میپ کچھوے پراسرار حالت میں مردہ پائے گئے۔ کئی کچھوؤں کے خول بری طرح ٹوٹے ہوئے تھے۔ کچھ کے جسم کے مختلف حصے غائب تھے۔ تمام لاشیں اس حالت میں تھیں جو شدید حملے یا غیر معمولی ماحولیاتی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔
یہ ابتدائی مشاہدہ بعد میں ایک بڑے ماحولیاتی سوال کی بنیاد بنا۔

ماہرِ حیاتیات کی موقع پر موجودگی
یہ دریافت کارلٹن یونیورسٹی کے ماہرِ حیاتیات گریگوری بُلٹے نے اپریل 2022 میں کی۔ وہ مشرقی اونٹاریو کی اوپینیکن جھیل میں تحقیق کر رہے تھے۔ وہ شمالی میپ کچھوؤں کی آبادی اور ماحول کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں پانی میں ایک مردہ کچھوا ملا۔
واضح رہے کہ اس نوع کو شمالی میپ کچھوا اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے خول پر نقشے جیسی باریک لکیریں ہوتی ہیں۔ جب وہ قریب گئے تو انہیں ایک اور مردہ کچھوا بھی نظر آیا۔ تب انہیں اس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔
بڑے پیمانے پر اموات کا انکشاف
بُلٹے نے فوری طور پر ویٹ سوٹ اور اسنارکل لیا۔ وہ دوبارہ اسی حصے میں گئے جہاں برف حال ہی میں پگھلی تھی۔ پانی میں اترتے ہی انہیں مسلسل مردہ کچھوے ملنے لگے۔ یہ واضح ہو گیا کہ واقعہ محدود نہیں۔ بلکہ بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
وہ لاشیں جمع کرتے رہے۔ جلد ہی درجنوں کچھوے اکٹھے ہو گئے۔ ان کے ذہن میں بار بار ایک ہی سوال تھا۔ یہ سلسلہ کب رکے گا۔

تقریباً 150 کچھوؤں کی ہلاکت
تحقیقات کے دوران تقریباً 150 مردہ کچھوے جمع ہوئے۔ کئی کچھوے ایسے بھی تھے جنہیں بُلٹے اپنی 20 سالہ تحقیق میں پہلے سے جانتے تھے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔ جھیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ختم ہو گیا۔ یہ کسی بھی آبی نظام کے لیے بڑا نقصان ہے۔
ممکنہ وجہ پر سوالات
ابتدائی جائزے میں ظاہر ہوا کہ حملہ کسی طاقتور شکاری نے کیا ہے۔ بُلٹے کا پہلا شبہ دریا کے اوٹر پر گیا۔ یہ جانور اس نوعیت کا حملہ کر سکتا ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ ایسا بڑے پیمانے پر کیوں ہوا۔ یہ جھیل میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا اجتماعی واقعہ تھا۔

شمالی میپ کچھوؤں کی خصوصیات
شمالی میپ کچھوے سخت سرد موسم میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ وہ سردیوں میں جھیل کی برف کے نیچے رہتے ہیں۔ اس دوران وہ تقریباً غیر متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان کا میٹابولزم بہت سست ہو جاتا ہے۔ مادہ کچھوے نر سے بڑی اور بھاری ہوتی ہیں۔ وہ افزائشِ نسل کے وقت بھی محفوظ نہیں رہتیں۔
آبادی اور خطرات
یہ نسل کینیڈا میں محدود تعداد میں پائی جاتی ہے۔ ان کی تعداد تقریباً دس ہزار 10000 کے قریب ہے۔ انہیں خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ یہ آبی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن انہیں کئی خطرات لاحق ہیں۔ کشتیوں سے ٹکراؤ ایک بڑا خطرہ ہے۔ ماہی گیری کے جال بھی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ انسانی سرگرمیاں بھی ان کے ماحول کو متاثر کرتی ہیں۔

ماضی کے مشابہ واقعات
سن 1980 کی دہائی میں الگونکوئن پارک میں ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔ اس وقت دریا کے اوٹروں نےس بڑی تعداد میں کچھوے ختم کیے تھے۔ اس کے اثرات آج تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے واقعات طویل مدتی نقصان دیتے ہیں۔

برف کے نیچے شکار
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سردیوں میں کچھوے گروہوں میں جمع ہوتے ہیں۔ وہ جھیل کی تہہ میں غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ شکاری جانور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس بار دریا کے اوٹروں نے یہی موقع استعمال کیا۔
موسمیاتی تبدیلی کا امکان
سوال یہ بھی ہے کہ اوٹرز برف کے نیچے کیسے پہنچے۔ کچھ امکانات زیرِ غور آئے۔ ان میں درجہ حرارت میں اضافہ بھی شامل تھا۔ برف کے کمزور ہونے کا امکان بھی دیکھا گیا۔ تاہم ابھی موسمیاتی تبدیلی سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔ مزید تحقیق ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
صحافت کی آزادی: غزہ میں 262 صحافی شہید، عالمی خاموشی پر سوال
مجموعی خطرات اور ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ ان کا طرزِ زندگی ہے۔ وہ ہر سال ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ یہی عادت انہیں زیادہ خطرناک بناتی ہے۔ ساحلی ترقی بھی ان کے لیے مسئلہ ہے۔ کشتیوں کی بڑھتی تعداد بھی نقصان دہ ہے۔ انسانی مداخلت ان کے ماحول کو متاثر کر رہی ہے۔
گریگوری بُلٹے کے مطابق یہ صورتحال ایک ساتھ کئی خطرات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اسے “ہزار زخموں سے ہونے والی موت” کہا ہے۔


