صحافت کی آزادی: غزہ میں جاری جنگ نے رپورٹنگ کو جان لیوا بنا دیا، گرفتاریوں، زخمیوں اور لاپتہ صحافیوں کی تعداد میں اضافہ
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے کہا ہے کہ تین مئی 2026ء کو منایا جانے والا صحافت کی آزادی کا عالمی دن اس بار غیر معمولی حالات میں آیا ہے۔اس دوران فلسطینی صحافی شدید خطرات کے باوجود اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مزید یہ کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری جنگ نے صحافت کو موت کے سائے میں دھکیل دیا ہے۔

صحافیوں کی شہادتیں
میڈیا آفس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 262 صحافی اور میڈیا ورکرز شہید ہو چکے ہیں۔یوں یہ تعداد کسی بھی تنازع میں صحافیوں کے جانی نقصان کی بڑی مثال قرار دی جا رہی ہے۔اسی طرح بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے فلسطینی آواز دبانے کی منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔

گرفتاریاں اور لاپتہ افراد
بیان کے مطابق 50 صحافیوں کو غیر انسانی حالات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ 3 صحافی تاحال لاپتہ ہیں۔چنانچہ ان کی زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

زخمی اور معذور صحافی
چار سو بیس 420 سے زائد صحافی زخمی ہوئے ہیں۔جبکہ کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔مزید برآں متعدد صحافی اپنے اعضاء کھونے کے باعث مستقل معذور ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
سرکاری بیان کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔بالخصوص جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔لہٰذا انہیں جنگی جرائم کہا گیا ہے اور عالمی احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذمہ داران اور عالمی ردعمل
میڈیا آفس نے صحافیوں کے قتل اور گرفتاریوں کی ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کی ہے۔ ساتھ ہی ان ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو سیاسی اور فوجی حمایت کر رہے ہیں مثلاً امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس شامل ہیں۔
عالمی برادری سے مطالبات
بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی خاموشی نظام انصاف کے لیے خطرہ ہے۔اسی لیے عالمی برادری، صحافتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خصوصاً انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور عرب جرنلسٹس یونین سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
حفاظت اور انصاف کی اپیل
میڈیا ٹیموں کو فوری بین الاقوامی تحفظ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔نیز ذمہ داروں کو عالمی عدالتوں میں لانے کی بھی اپیل کی گئی ہے
کراچی میں مٹی کے طوفان کا الرٹ جاری
بیان کے مطابق غزہ کی صورتحال سچ دبانے کی منظم کوشش ہے۔تاہم فلسطینی صحافیوں کا پیغام زندہ رہے گا۔آخرکار فلسطین کی آواز کو دبایا نہیں جا سکے گا۔


