محفوظ خون کی فراہمی کے لیے جامشورو ریجنل بلڈ سینٹر سے آٹھ سرکاری اسپتالوں کو معیاری خون فراہم کیا جائے گا، ہزاروں مریض مستفید ہوں گے۔
ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
پاکستان میں ہر سال ہزاروں مریض ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی بروقت اور محفوظ خون کی فراہمی پر منحصر ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا، کینسر، حادثات، بڑی سرجریوں اور زچگی کے دوران خون کی ضرورت اکثر زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں حکومتِ سندھ اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کا مشترکہ اقدام ملک کے صحت کے نظام میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا پہلا مکمل فعال بلڈ بینکنگ نیٹ ورک
حکومتِ سندھ اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے پاکستان کا پہلا مکمل فعال ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی مرکز ریجنل بلڈ سینٹر جامشورو ہے، جہاں سے حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے آٹھ سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کیا جائے گا۔
یہ تمام بلڈ بینکس آئی ایس او 15189 کے بین الاقوامی معیار کے مطابق تصدیق شدہ ہیں، جس سے خون کی جانچ، ذخیرہ کرنے اور فراہمی کے معیار میں مزید بہتری آئی ہے۔

ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ ماڈل کیا ہے؟
اس ماڈل میں ایک جدید اور مرکزی بلڈ سینٹر (ہب) خون جمع کرتا ہے، اس کی مکمل اسکریننگ کرتا ہے، اسے مختلف اجزاء میں تقسیم کرتا ہے اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرتا ہے۔ بعد ازاں اس سے منسلک اسپتالی بلڈ بینکس (اسپوک) ضرورت کے مطابق محفوظ خون حاصل کرتے ہیں۔
اس نظام سے خون کے ضیاع میں کمی آتی ہے، معیار بہتر ہوتا ہے اور دور دراز علاقوں تک بروقت خون کی فراہمی ممکن بنائی جاتی ہے۔

کن اسپتالوں کو فائدہ پہنچے گا؟
جامشورو کا ریجنل بلڈ سینٹر اب لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو و حیدرآباد، سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹالوجی اور ضلع ٹھٹھہ، میرپورخاص، مٹیاری، بدین اور مٹھی کے سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کرے گا۔
اس اقدام سے ہزاروں مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی۔

عالمی تعاون سے مکمل ہونے والا منصوبہ
یہ منصوبہ حکومتِ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا۔ جرمن حکومت نے کے ایف ڈبلیو ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعے پاکستان سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے تحت اس کی مالی معاونت فراہم کی۔
یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مکمل فعال سرکاری بلڈ بینکنگ نیٹ ورک ہے۔

رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کا اہم کردار
اس کامیابی کے موقع پر کراچی میں انڈس زندگی کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور شراکت دار اداروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔
نایاب بلڈ گروپس رکھنے والے عطیہ دہندگان کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، کیونکہ انہی کے تعاون سے پاکستان میں پہلی مرتبہ ریڈ سیل ری ایجنٹس کی مقامی تیاری ممکن ہو رہی ہے۔
ہر خون کا عطیہ ایک نئی زندگی
انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ خون کا ہر عطیہ کسی مریض کے لیے نئی زندگی کی امید ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انڈس اسپتال میں تمام طبی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کی بدولت ہر سال ہزاروں جانیں بچائی جاتی ہیں۔
ادارے کی سینئر ڈائریکٹر برائے بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز ڈاکٹر صبا جمال کے مطابق انڈس اسپتال اس وقت نو ہزار سے زائد اسپتالی بستروں کے لیے محفوظ خون کی فراہمی کا انتظام کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ خون کے عطیات جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ سات لاکھ سے زیادہ مریض محفوظ خون سے مستفید ہوتے ہیں۔
مستقبل کا منصوبہ
حکومتِ سندھ کا کہنا ہے کہ چار ریجنل بلڈ سینٹرز کے ذریعے مزید سرکاری اسپتالوں کو اس نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ صوبے کے ہر شہری کو بروقت، محفوظ اور معیاری خون دستیاب ہو سکے۔
اگر یہ ماڈل ملک کے دیگر حصوں میں بھی نافذ کیا گیا تو پاکستان میں محفوظ خون کی فراہمی کا نظام مزید مضبوط ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کیا دیکھا؟
مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے
نتیجہ
جامشورو میں قائم ہونے والا ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک صرف ایک طبی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے صحت کے شعبے میں ایک اہم اصلاح ہے۔
یہ نظام محفوظ خون کی بروقت فراہمی، بین الاقوامی معیار پر مبنی بلڈ بینکنگ اور رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے فروغ کے ذریعے ہزاروں قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
صحت مند افراد کے لیے خون کا ایک عطیہ کسی اجنبی کے لیے نئی زندگی کا تحفہ بن سکتا ہے، اور یہی ایک صحت مند، محفوظ اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔