آبنائے ہرمز بند: امریکی حملوں کے بعد ایران کا سخت ردعمل، تجارتی اور تیل بردار جہاز بھی متاثر
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
امریکی حملوں اور بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے تمام جہازوں کی آمدورفت بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
بیان کے مطابق پابندی میں تیل بردار اور تجارتی جہاز بھی شامل ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی قسم کی بحری نقل و حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکا کے ایران پر تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جھڑپیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ بعض امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ فارس، مغربی تہران، بندر عباس، مینا ب، سیرک، قشم، ہینگام اور جزیرہ کیش میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایرانی بندرگاہ گرگان میں بھی دھماکے رپورٹ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں
پاک فوج کا ایم آئی-17 گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید
سانحہ بلدیہ کے دو ملزمان سپریم کورٹ سے بری
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران میں متعدد اہداف پر اضافی دفاعی حملے کیے گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ حملے ایران کی مسلسل اور بلاجواز جارحیت کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔