March 9, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
موسمیاتی تبدیلی: پاکستان میں پانی کی قلت، دستیابی 800 کیوبک میٹر فی کس سے کم
Climate Change: Water scarcity in Pakistan becomes severe, availability drops to less than 800 cubic meters per capita

موسمیاتی تبدیلی: پاکستان میں پانی کی قلت، دستیابی 800 کیوبک میٹر فی کس سے کم

Climate Change: Water scarcity in Pakistan becomes severe, availability drops to less than 800 cubic meters per capita

موسمیاتی تبدیلی کے باعث عالمی درجہ حرارت میں 4 ڈگری اضافہ ہوا تو پاکستان میں درجہ حرارت 5 ڈگری بڑھ جائےگا، ایس ڈی جی پروجیکٹ کی ورکشاپ

ویب فیچر اسٹوری : فرحین العاص / روبینہ یاسمین

پاکستان میں پانی سے متعلق ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے ایس ڈی جی 6.6.1 پروجیکٹ کے تحت دوسری مشاورتی ورکشاپ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا اہتمام پاکستان واٹر پارٹنرشپ اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے اشتراک سے کیا گیا۔

ورکشاپ میں حکومتی نمائندوں، سول سوسائٹی، اکیڈمیا اور ماحولیات پر کام کرنے والے میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔

پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ

گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف گوہیر نے ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت اور حق ہے، لیکن اس تک رسائی مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 800 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے اور ملک اب ان ممالک میں شامل ہو رہا ہے جہاں پانی کی قلت سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

Pakistan needs to strengthen Integrated Water Resources Management and other related systems at the ground level so that existing resources and funding models can be implemented more effectively.

انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کی کئی وجوہات ہیں مگر بنیادی وجہ

موسمیاتی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس صدی کے آخر تک

عالمی درجہ حرارت میں 4 ڈگری اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان میں

درجہ حرارت 5 ڈگری سے زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عارف گوہیر نے کہا کہ ملک میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور پانی اور درجہ حرارت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئر شدید دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے قومی ہیٹ اسٹریٹجی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ سمیت دیگر نظاموں کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ وسائل اور فنڈنگ ماڈلز کو بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

A second consultative workshop under the SDG 6.6.1 Project for the protection and restoration of water-related ecosystems in Pakistan was held at a local hotel in Islamabad.
پاکستان میں پانی سے متعلق ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے ایس ڈی جی 6.6.1 پروجیکٹ کے تحت دوسری مشاورتی ورکشاپ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی

منصوبے کے مقاصد

پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری کوآرڈینیٹر محمد اویس نے منصوبے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز انوائرمنٹ پروگرام کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ ممالک کے ساتھ مل کر ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور نگرانی کے لیے کام کرے۔

اس مقصد کے لیے ایک عالمی پروگرام شروع کیا گیا جس میں پیرو، ملاوی اور پاکستان کو منتخب کیا گیا تاکہ یہ ممالک پانی سے متعلق ڈیٹا، پالیسیوں اور عملی اقدامات کو بہتر بنا سکیں۔

محمد اویس کے مطابق یہ منصوبہ 2026 تک جاری رہے گا اور اس دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر اور پاکستان واٹر پارٹنرشپ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Pakistan needs to strengthen Integrated Water Resources Management and other related systems at the ground level so that existing resources and funding models can be implemented more effectively.

قومی سطح کا روڈ میپ

فیڈرل فلڈ کمیشن کے سابق چیئرمین احمد کمال نے کہا کہ اس عمل کا بنیادی مقصد کنٹری امپلیمنٹیشن روڈ میپ تیار کرنا ہے تاکہ واضح کیا جا سکے کہ کن اقدامات کی ضرورت ہے اور کن نظاموں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Pakistan needs to strengthen Integrated Water Resources Management and other related systems at the ground level so that existing resources and funding models can be implemented more effectively.

منصوبے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر محمد عُکاشہ نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد 2030 تک کے اہداف کے حصول کے لیے ایک جامع عمل درآمد پلان تیار کرنا ہے ۔ اس میں گورننس، پالیسی سازی اور نچلی سطح کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت شامل ہے۔

ڈیٹا اور پالیسی کا مسئلہ

ایس ڈی جی 6.6.1 کی نیشنل فوکل پرسن ڈاکٹر قرۃ العین نے تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے ذرائع نہ صرف لوگوں کی روزی روٹی بلکہ قومی سلامتی کے ضامن ہیں، تاہم آلودگی کے باعث یہ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی کے حوالے سے ڈیٹا کا بڑا مسئلہ موجود ہے اور ابھی تک ملک اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جہاں مستند اور متفقہ اعداد و شمار فراہم کیے جا سکیں۔

Pakistan needs to strengthen Integrated Water Resources Management and other related systems at the ground level so that existing resources and funding models can be implemented more effectively.

آئندہ کا لائحہ عمل

ورکشاپ میں شریک شرکا کے مطابق اس مشاورتی عمل کے نتیجے میں ایسی حکمت عملی تیار کی جائے گی جس میں عمل درآمد کا شیڈول، مختلف اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کا تعین شامل ہوگا۔

تیار ہونے والا کنٹری امپلیمنٹیشن پلان بعد ازاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکومت کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

Pakistan needs to strengthen Integrated Water Resources Management and other related systems at the ground level so that existing resources and funding models can be implemented more effectively.
پاکستان کو انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ سمیت دیگر نظاموں کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ وسائل اور فنڈنگ ماڈلز کو بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی، جدید بایومیڈیکل ریسرچ کا نیا دور

دیہی سندھ کے دور دراز علاقوں کےلیے چوتھے موبائل ارجنٹ کیئر یونٹ کا افتتاح

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پانی سے متعلق ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے مضبوط حکومتی کردار، مؤثر پالیسی سازی، مالی وسائل اور تکنیکی صلاحیتیں ناگزیر ہیں۔

یہ پروجیکٹ 2026 تک جاری رہے گا اور پاکستان میں پانی سے متعلق ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے قومی سطح پر رہنمائی فراہم کرے گا۔

Government representatives, members of civil society, academia, and media professionals working on environmental issues participated in the workshop.
ورکشاپ میں حکومتی نمائندوں، سول سوسائٹی، اکیڈمیا اور ماحولیات پر کام کرنے والے میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×