Water Crisis: 41% Shortfall in Sindh, Are Crops at Risk?

پانی بحران: سندھ کو 1991ء معاہدے کے تحت 41 فیصد کم پانی مل رہا ہے، فصلیں متاثر، زرعی پیداوار اور معیشت پر سنگین خدشات بڑھ گئے

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کراچی: صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا ہے کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت زرعی شعبے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماہرین اور سندھ کے آبی امور کے ماہرین کے مطابق صوبے کو 1991ء کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے کے تحت جتنا پانی ملنا چاہیے، اس کے مقابلے میں اس وقت تقریباً 41 فیصد کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث کپاس، چاول اور دیگر اہم فصلوں کی کاشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو سندھ میں زرعی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

پانی کی فراہمی میں بڑا فرق

اعداد و شمار کے مطابق 1991ء کے معاہدے کے تحت سندھ کا حصہ تقریباً 99 ہزار کیوسک پانی بنتا ہے، لیکن اس وقت صوبے کو صرف 57 ہزار کیوسک کے قریب پانی مل رہا ہے، جس سے واضح طور پر 41 فیصد شارٹ فال پیدا ہو چکی ہے۔

دوسری جانب پنجاب کو بھی اپنے مقررہ حصے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کمی کا سامنا ہے، جس پر سندھ کے نمائندوں نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

اس کے باوجود سندھ کو مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

فصلوں پر براہ راست اثر

ماہرین کے مطابق پاکستان میں خریف کی فصلوں کی کاشت سب سے پہلے سندھ میں شروع ہوتی ہے۔ بدین، ٹھٹھہ، حیدرآباد اور دیگر زیریں علاقوں میں کپاس اور چاول کی کاشت پنجاب کے مقابلے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ پہلے کی جاتی ہے۔

تاہم پانی کی کمی کے باعث کاشتکاروں کا بویا ہوا بیج سوکھ رہا ہے، جس سے فصلوں کو بڑے نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

معیشت پر ممکنہ اثرات

پاکستان کی مجموعی زرعی پیداوار اور برآمدات میں سندھ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قومی جی ڈی پی میں بھی زرعی شعبے کے ذریعے صوبے کا حصہ تقریباً 30 فیصد تک پہنچتا ہے۔

ایسی صورتحال میں پانی کی قلت نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈیمز میں پانی کی صورتحال

8 جون کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔ گزشتہ سال 8 جون کو تربیلا میں تقریباً 78 ہزار کیوسک پانی آ رہا تھا، جبکہ رواں سال اسی تاریخ کو ایک لاکھ 10 ہزار کیوسک سے زائد پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح منگلا ڈیم میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں پانی کی آمد بہتر بتائی جا رہی ہے، جبکہ ذخائر بھی نسبتاً زیادہ ہیں۔

اس کے باوجود سندھ کو مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

آبی ماہرین کے تحفظات

سندھ کے آبی ماہرین کا مؤقف ہے کہ جب پانی کی دستیابی بہتر ہے تو پھر زیریں علاقوں، خصوصاً سندھ، کو شدید قلت کا سامنا کیوں ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مختلف نہروں اور کینالوں میں پانی کی فراہمی کے اعداد و شمار کے مطابق بعض نظاموں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پانی چھوڑا جا رہا ہے، جبکہ سندھ کے حصے میں کمی برقرار ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو کپاس، چاول اور دیگر فصلوں کی پیداوار متاثر ہوگی، جس کے اثرات قومی معیشت اور برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کارپوریٹ پیڈل کپ پاکستان: کراچی میں بڑے اسپورٹس ایونٹ کا آغاز
آبنائے ہرمز سے تمام جہاز وں کی آمدورفت بند

وزیر کا مطالبہ

صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ آبادگار تنظیموں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ آبی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ 1991ء کے معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا جائز حصہ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو سندھ میں زرعی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *