سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا جام چاکرو لینڈ فل سائٹ فیز ٹو منصوبہ 500 ایکڑ پر محیط، 13 ارب لاگت، جدید ٹیکنالوجی سے کچرے کا حل اور بجلی پیدا کرنے کا ہدف
ویب نیوز رپورٹ : روبینہ یاسمین
کیا جام چاکرو منصوبہ کراچی کا کچرا مسئلہ حل کرے گا؟
کراچی : پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 13 ارب لاگت کی لاگت سے شروع ہونے والے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے جدید توانائی منصوبے کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اور شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی بینزز آویزاں کئے جا چکے ہیں ۔
تفصیلی طورپر جانتے ہیں کہ توانائی کا یہ منصوبہ کام کس طرح کرے گا ؟ تقریباََ تین کروڑ سے تجاوز کرنے والے شہر کراچی میں کچرے کے مسائل کو حل کس طرح کیا جائے گا اورکیا واقعی کراچی کے شہریوں کے لئے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا جدید توانائی منصوبہ زحمت بنے گا یا بات صرف بینرز تک ہی محدود رہے گی؟
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے صوبے میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے اہم پیش رفت کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی سینیٹری انجینئرنگ لینڈ فل سائٹ، جام چاکرو لینڈ فل سائٹ فیز ٹو کا تفصیلی دورہ کیا ۔
اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری برائے بلدیات قاسم سراج سومرو سمیت رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق نظامانی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر سویپ عثمان معظم نے شرکت کی ۔ علاوہ ازیں ترکش کنسلٹنٹس اور چینی کنٹریکٹرز سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موقع پر موجود تھے ۔
منصوبے کی تفصیلات اور لاگت
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیز ٹو کے تحت تقریباً 500 ایکڑ رقبے پر کام جاری ہے ۔ اس منصوبے میں جدید سائنسی اصولوں کے مطابق پانچ نئے لینڈ فل بلاکس تعمیر کیے جا رہے ہیں ۔
منصوبے پر 13 ارب روپے لاگت آئے گی ۔ یہ منصوبہ کچرے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں مدد دے گا ۔ ساتھ ہی ری سائیکلنگ اور توانائی میں تبدیلی کے عمل کو بھی فروغ ملے گا ۔

حکومتی ہدایات اور ماحولیاتی اصول
وزیر بلدیات نے ہدایت دی کہ تعمیراتی کام میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کام کی رفتار کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا ۔
مزید یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی ماحولیاتی اصولوں کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے ۔ اس اقدام سے شہریوں کو آلودگی اور صحت کے مسائل سے ریلیف ملے گا۔
جدید انفراسٹرکچر اور سہولیات
حکام کے مطابق، منصوبے کے تحت جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا ۔ اس میں پختہ سڑکیں اور مؤثر اسٹورم واٹر ڈرینج سسٹم شامل ہوگا ۔
ماحول دوست لیچیٹ ٹینکس اور ویٹ برج کے نصب ہونے کے ساتھ ساتھ ایڈمن بلاک، انجینئرنگ ورکشاپ اور مسجد بھی تعمیر کی جائے گی ۔ عملے کے لیے بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی ۔
گنجائش اور تکنیکی خصوصیات
ہر لینڈ فل بلاک کی اونچائی 25 میٹر رکھی گئی ہے ۔ مجموعی گنجائش ایک کروڑ تیس لاکھ کیوبک میٹر ہوگی ۔ یہ صلاحیت آئندہ کئی برسوں تک کراچی اور مضافاتی علاقوں کے کچرے کے لیے کافی ہوگی ۔ اس صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچرے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جائے گا ۔

ری سائیکلنگ اور توانائی پیداوار
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ منصوبے میں جدید ٹیکنالوجی استعمال ہوگی ۔ کچرے کو ری سائیکل کیا جائے گا ۔ ویسٹ ٹو انرجی کے تحت بجلی بھی پیدا کی جائے گی ۔کاربن بلاکس اور دیگر قابل استعمال مصنوعات بھی تیار ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ ساتھ ہی روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔
پرانے کچرے کی ری سائیکلنگ
انہوں نے مزید کہا کہ پرانے لینڈ فل بلاکس پر بھی کام ہوگا ۔ ان میں موجود کچرے کو مرحلہ وار ری سائیکل کیا جائے گا ۔ اس عمل سے نہ صرف زمین دوبارہ قابل استعمال بنائی جا سکے گی بلکہ ساتھ ہی لینڈ فل سائٹس کی گنجائش میں بھی اضافہ ہوگا ۔

ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات
ذرائع کے مطابق، منصوبے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں ۔ زیر زمین پانی کو آلودگی سے بچانے کے لیے جدید حفاظتی تہیں نصب کی جا رہی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں
مقامی دیہات کا اتحاد، بجلی کے حق کیلئے مشترکہ جدوجہد کا اعلان
ڈیزل مہنگائی: سندھ کے چالیس لاکھ ماہی گیروں کی بقا خطرے میں
عوامی آگاہی اور مستقبل کی حکمت عملی
وزیر بلدیات نے متعلقہ اداروں کو مربوط حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے عوامی آگاہی مہم شروع کرنے پر بھی زور دیا ۔ اس مہم کا مقصد شہریوں میں کچرے کی علیحدگی اور ری سائیکلنگ کو فروغ دینا ہے ۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق، جام چاکرو لینڈ فل سائٹ فیز ٹو منصوبہ اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔ یہ منصوبہ سندھ میں ماحولیاتی بہتری لائے گا ۔ اس سے شہری صفائی بہتر ہوگی اور گرین انرجی کو فروغ ملے گا ۔


