April 15, 2026
Office no.47, 3rd floor، Building, Abdullah Haroon Road Saddar, Karachi, Pakistan Postal Code : 74400
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے نے سمندری زندگی کو خطرے میں ڈال دیا
اہم اسٹوریز اہم خبریں جنگلی حیات کی بقا

ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے نے سمندری زندگی کو خطرے میں ڈال دیا

ٹرمپ انتظامیہ کا متنازع فیصلہ: سمندری زندگی خطرے میں، ماہرین کا انتباہ کہ نایاب انواع تیزی سے معدومیت کے قریب پہنچ رہی ہیں

ویب نیوز رپورٹ : روبینہ یاسمین

منگل کوڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل نام نہاد “گاڈ اسکواڈ” نے خلیجِ میکسیکو سے متعلق ایک اہم فیصلہ کیا ۔ اس کمیٹی نے طویل عرصے سے نافذ خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے قانون کے ضوابط ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ۔

نتیجتاً تیل اور گیس کی تمام ڈرلنگ کو استثنیٰ دے دیا گیا۔ تاہم ماہرینِ ماحولیات نے شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ نایاب رائس وہیل کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔

یہ فیصلہ نایاب رائس وہیل کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے

“گاڈ اسکواڈ” کیا ہے؟

“گاڈ اسکواڈ” دراصل ایک خصوصی کمیٹی ہے۔ یہ خطرے سے دوچار انواع کی کمیٹی کے تحت کام کرتی ہے ۔

اس میں چھ اعلیٰ وفاقی حکام شامل ہوتے ہیں۔ یہ قانون میں استثنیٰ دینے کا اختیار رکھتے ہیں ۔

اسی وجہ سے اسے ’’گاڈ اسکواڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ زندگی اور موت جیسے فیصلے کر سکتی ہے ۔ اورمونٹ لاء اسکول کے ایمیریٹس پروفیسر پیٹ پارینٹیو نے کہا ’’ یہ واقعی زندگی اور موت کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ ایسا استثنیٰ دے سکتی ہے جو کسی نوع کے خاتمے کا سبب بن جائے ‘‘۔

تاریخی اور غیر معمولی فیصلہ

اس قانون کے تحت استثنیٰ دینا بہت نایاب ہے۔ یہ تاریخ میں صرف چوتھا موقع ہے جب کمیٹی نے ووٹ دیا ۔ مزید یہ کہ پہلی بار قومی سلامتی کی بنیاد پر استثنیٰ دیا گیا ۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے استثنیٰ کی درخواست دی تھی۔

قومی سلامتی کا مؤقف

گزشتہ ہفتے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے استثنیٰ کی درخواست دی تھی۔ انہوں نے اسے قومی سلامتی سے جوڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی مقدمات توانائی منصوبوں میں رکاوٹ ہیں۔ اس لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

ان مقدمات میں کشتیوں کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح سیزمک ایئر گنز کے استعمال کو محدود کرنے کی بات بھی کی گئی ۔

ماہرین کے مطابق، یہ سرگرمیاں وہیلز کو متاثر کرتی ہیں۔ ان سے ان کی نقل و حرکت اور رابطہ متاثر ہوتا ہے ۔

مزید برآں تیل کے اخراج کو بھی بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 17 فیصد رائس وہیلز ہلاک ہوئیں ۔

ٹرمپ کے بیانات اور سائنسی ردعمل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں ونڈ انرجی منصوبوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ونڈ ٹربائنز وہیلز کو “پاگل” کر رہی ہیں ۔

تاہم وفاقی سائنسدانوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ۔

دیگر خطرے سے دوچار انواع

خلیجِ میکسیکو میں صرف رائس وہیل ہی نہیں۔ دیگر کئی خطرے سے دوچار انواع بھی موجود ہیں ۔

ان میں شامل ہیں

سمندری کچھوے

مانیٹیز

وہوپنگ کرین

یہ تمام انواع بھی ماحولیاتی خطرات کا سامنا کر رہی ہیں ۔

خلیجِ میکسیکو میں صرف رائس وہیل ہی نہیں۔ دیگر کئی خطرے سے دوچار انواع بھی موجود ہیں۔

توانائی اور معیشت کا مؤقف

حکومت کے مطابق ماحولیاتی قوانین مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ان سے توانائی کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے ۔

نتیجتاً سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا”یہ قانونی لڑائیاں وسائل ضائع کرتی ہیں ۔

یہ منصوبہ بندی کو بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ جب خلیج میں ترقی رکتی ہے تو توانائی متاثر ہوتی ہے ‘‘۔”

انہوں نے اس معاملے کو فوجی تیاری سے بھی جوڑا۔ ساتھ ہی ایران کے ساتھ کشیدگی کا حوالہ دیا ۔ ان کے مطابق، اس سے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا ۔

ارتھ جسٹس کے ڈریو کیپوٹو نے کہا “یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔

قانونی چیلنج کا اعلان

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیمیں متحرک ہو گئی ہیں۔ ارتھ جسٹس کے ڈریو کیپوٹو نے کہا ’’یہ دعویٰ بے بنیاد ہے، قومی سلامتی کے لیے قانون ختم کرنا ضروری نہیں‘‘ ۔

یہ بھی پڑھیں

خیرپور واقعہ: لڑکی کو پولیس کی موجودگی میں قتل کرنے کا انکشاف

ایپل کا میک منی کمپیوٹر تیزی سے وائرل کیوں ہو رہا ہے؟

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا جدید منصوبہ: ری سائیکلنگ اور توانائی پیداوار پر زور

ماضی کی مثال اور قانونی کمزوری

“گاڈ اسکواڈ” کے فیصلے پہلے بھی متنازع رہے ہیں۔ سن 1992 میں ایک اہم فیصلہ کیا گیا تھا ۔

اوریگون میں جنگلات کی کٹائی کی اجازت دی گئی۔ اس سے ناردرن اسپاٹڈ آؤل کو خطرہ لاحق ہوا ۔

تاہم بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ پروفیسر پیٹ پارینٹیو کے مطابق موجودہ کیس کمزور ہے ۔

انہوں نے کہا ’’یہ صرف قیاس آرائی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مقدمات پیداوار متاثر کریں گے‘‘ ۔

اسی لیے قانونی طور پر یہ کیس کمزور ہے ‘‘۔”

نتیجہ سامنے ہے

ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ ایک بڑی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف توانائی اور قومی سلامتی ہے۔ دوسری طرف نایاب سمندری حیات کا تحفظ ہے۔

اب معاملہ عدالت میں جائے گا۔ یوں آنے والے دنوں میں اس فیصلے کا مستقبل طے ہوگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×