خیرپور واقعہ: 22 سالہ خالدہ کے قتل کی ویڈیو وائرل، خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، پولیس کی موجودگی پر سوالات اٹھ گئے
ویب نیوز رپورٹ
خیرپور: سندھ پولیس نے ضلع خیرپور میں 22 سالہ خاتون کے مبینہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعے کی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ اس کے بعد عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق ٹنڈو مستی سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خالدہ کو مبینہ طور پر ’کاری‘ قرار دے کر قتل کیا گیا۔ اس واقعے میں دو ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ گرفتار افراد میں مقتولہ کے ماموں اور دادا شامل ہیں۔ مقدمہ بھی سرکاری مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔
مزید برآں پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یہ ٹیم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
واقعے کی وائرل ویڈیو میں سرخ کپڑوں میں ملبوس خاتون دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ دو افراد کے درمیان کھڑی ہے۔ ایک شخص کے ہاتھ میں پستول بھی موجود ہے۔ ویڈیو میں خاتون بار بار اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتی ہے۔ تاہم کچھ ہی لمحوں بعد فائرنگ کر دی جاتی ہے۔

ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ واقعہ چار روز پرانا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار رات کے وقت گشت پر تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی۔ گاؤں بٹو چانڈیو میں ایک خاتون کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کی کوشش جاری تھی۔
اس اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی۔ وہاں مسلح افراد اور ایک خاتون موجود تھے۔
پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کی۔ انہوں نے فائرنگ روکنے کی کوشش کی۔ تاہم اسی دوران فائرنگ ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں خاتون زمین پر گر گئی۔
اہم سوالات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ خاص طور پر پولیس کی موجودگی میں واقعہ پیش آنے پر۔
“پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لڑکی کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی۔”
یہ بھی پڑھیں
پنک اسکوٹی اسکیم میں بڑی پیش رفت، مستحقین کے لیے اچھی خبر
ریَپ سے سیاست تک کے نئے سیاسی طوفان میں کیا پرانے چہرے بہہ جائیں گے؟
ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ گاؤں کی خواتین نے بتایا کہ لڑکی موقع پر ہی دم توڑ گئی تھی۔ اسے سینے میں دو گولیاں لگی تھیں۔
مقتولہ کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی چھ سال قبل ہوئی تھی۔ وہ جمعرات کو گھر سے گئی تھی۔ اس کے بعد اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کر دی تھی۔

