ایران امریکہ مذاکرات، اسلام آباد میں طویل بات چیت کے باوجود معاہدہ نہ ہو سکا، کیا اگلا دور کسی بڑی پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا؟
ویب نیوز رپورٹ
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش پاکستان نے کر دی ہے ۔ اس اقدام کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔
امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، دو پاکستانی عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کیے جائیں۔ یہ تجویز سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے پہلے دی گئی ہے ۔

مذاکرات کا ممکنہ نیا مرحلہ
رپورٹ کے مطابق، ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے ۔ اس دوران ایک امریکی عہدیدار نے بھی اُمید ظاہر کی ہے کہ فریقین نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں ۔
اسی طرح میڈیا رپورٹس کے مطابق، مذاکرات کا عمل اب بھی جاری ہے ۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے ۔

سابقہ مذاکرات اور پیش رفت
یاد رہے کہ ایران امریکہ مزاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا ۔
اس دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل بات چیت ہوئی تھی ۔ تاہم کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آ سکا تھا ۔

عالمی ردعمل
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں ۔ ان کے مطابق اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے ۔

ایران اور روس کا مؤقف
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ایک منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے ۔
اسی دوران روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ روس تصفیے میں مدد کے لیے تیار ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان میں پائیدار ٹرانسپورٹ کا خواب کیا حقیقت بننے جا رہا ہے؟
سوشل میڈیا پر جے ڈی وینس کے چرچے عوام نے حد پار کردی
ماہرین کے مطابق، موجودہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہیں ۔ تاہم اصل پیش رفت فریقین کے اگلے فیصلوں پر منحصر ہے ۔

