کراچی کی سڑکیں، خستہ حال انفراسٹرکچر کے نتیجے میں 30 فیصد سے زائد صنعتیں بند، تجارتی سرگرمیاں مرحلہ وار منتقل ہو رہی ہیں

خصو صی ویب نیوز رپورٹ : محمد نعمان
پاکستان کے سب سے بڑے اور میگا سٹی کراچی میں سڑکوں کی خستہ حالی نے صنعتی نظام کو مسلسل متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ نتیجتاً صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ مرحلہ وار شہر سے باہر منتقل ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 30 فیصد سے زائد فیکٹریاں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں۔ مزید برآں یہ فیکٹریاں اب لاہور منتقل ہو گئی ہیں۔

صنعتی زونز میں بگاڑ
کورنگی انڈسٹریل ایریا، شیر شاہ انڈسٹریل ایریا اور نیو کراچی انڈسٹریل زون سمیت دیگر علاقے بتدریج زوال کا شکار ہیں۔
خاص طور پر کورنگی انڈسٹریل ایریا میں بروکس چورنگی سے بلال چورنگی تک سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اسی طرح سروس روڈ بھی بند ہو چکی ہیں۔
مزید برآں نالے کا گندا پانی مسلسل سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ نتیجتاً صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔

شیر شاہ اور دیگر علاقے
شیر شاہ انڈسٹریل ایریا میں سڑکیں مسلسل خراب ہو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گلیاں کیچڑ اور گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
جس کی وجہ سے ہیوی ٹریفک کا گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔ لہٰذا ترسیل کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
اسی طرح گلبائی سے بلدیہ جانے والی سڑک بھی خراب ہے۔ اکبر روڈ انڈسٹریل زون کی حالت بھی بہتر نہیں۔
بزنس کمیونٹی کا مؤقف
کاٹی کے سابق صدر جنید نقی نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں کی حالت کاروبار کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کورنگی 10 ہزار روڈ ڈیڑھ سال سے کھدائی کے بعد ویسے ہی پڑی ہے۔ نتیجتاً ٹرانسپورٹ مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بارش کے بعد صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔ اس کے باعث صنعتی علاقے کئی دن تک کیچڑ میں رہتے ہیں۔
کاروبار کی منتقلی
بزنس کمیونٹی کے مطابق صنعتی سرگرمیاں آہستہ آہستہ کراچی سے منتقل ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب لاہور میں بہتر انفراسٹرکچر اور سہولیات موجود ہیں۔ اسی وجہ سے کاروبار وہاں جا رہا ہے۔
نتیجتاً تقریباً 30 فیصد کاروبار پہلے ہی منتقل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان چین معاہدے:کراچی میں پانی بحران ختم ہونے والا ہے؟
سانحہ بوہری بازار: کراچی کی تاریخ کا سیاہ دن جو آج بھی یاد ہے
نتیجہ اور مطالبہ
بزنس کمیونٹی نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال نہ بدلی تو مزید انخلا ہو سکتا ہے۔
لہٰذا انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے۔ یا پھر شہر کی ذمہ داری بزنس کمیونٹی کو دی جائے۔


