May 12, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
کرپٹو کرنسی کے نام پر نئی لوٹ مار سامنے آگئی
New Wave of Fraud Emerges in the Name of Cryptocurrency

کرپٹو کرنسی کے نام پر نئی لوٹ مار سامنے آگئی

کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے نام پر جعلی ایپس، میم کوائنز اور غیر حقیقی منافع کے جھانسے سے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کرپٹو کرنسی میں بڑھتے ہوئے فراڈ اور جعلی اسکیموں سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بلاک چین کے نام پر شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فراڈیے پہلے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ بعد ازاں انہیں منافع بخش سرمایہ کاری اسکیموں کا لالچ دے کر بڑی رقوم لگانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں انہیں منافع بخش سرمایہ کاری اسکیموں کا لالچ دے کر بڑی رقوم لگانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

جعلی ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے فراڈ

ماہرین کے مطابق کئی گروہ جعلی ایپس اور ویب سائٹس بنا کر صارفین کی رقم ہتھیا لیتے ہیں۔ ابتدا میں سرمایہ کاروں کو غیر معمولی منافع دکھایا جاتا ہے تاکہ مزید افراد بھی سرمایہ کاری کریں۔

انہوں نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی غیر مرکزی اور مکمل ڈیجیٹل نظام پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے احتیاط نہ کرنے کی صورت میں مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کئی گروہ جعلی ایپس اور ویب سائٹس بنا کر صارفین کی رقم ہتھیا لیتے ہیں۔

میم کوائنز کے نام پر دھوکا

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں زیادہ تر فراڈ جعلی منصوبوں اور میم کوائنز کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ایسے منصوبوں میں کم وقت میں امیر بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر کے ذریعے عوام کو راغب کیا جاتا ہے۔ جب بڑی تعداد میں لوگ سرمایہ کاری کر دیتے ہیں تو بعض منصوبہ ساز رقم لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پولیو بوسٹر مہم: سندھ میں خصوصی پولیو بوسٹر مہم کا افتتاح
ہنٹا وائرس: کروز جہاز سے مسافروں کا انخلا شروع

عوام کے لیے احتیاطی مشورے

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی آن لائن سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔ غیر معروف پلیٹ فارمز اور مشکوک ایپس سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غیر حقیقی منافع کے دعوؤں پر ہرگز یقین نہ کیا جائے۔ سرمایہ کاری سے پہلے مستند ذرائع سے معلومات ضرور حاصل کی جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×